
خلیج اردو
نیویارک یونیورسٹی ابوظبی کی ایک نئی تحقیق کے مطابق ذیابیطس اور وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ادویات اوزیمپک اور ویگووی صحت کے فوائد کے ساتھ معاشی فوائد بھی فراہم کر سکتی ہیں۔ تحقیق میں ان ادویات کے استعمال کو روزگار کے امکانات اور کام کے اوقات میں اضافے سے منسلک پایا گیا ہے۔
ڈنمارک کے ملک گیر آبادی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کی گئی تحقیق میں معلوم ہوا کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے علاج کے لیے ادویات استعمال کرنے والے افراد کے ملازمت حاصل کرنے کے امکانات بڑھ گئے، جبکہ وزن کم کرنے کی دوا استعمال کرنے والے پہلے سے ملازمت کرنے والے افراد نے زیادہ گھنٹے کام کیا۔
تحقیق میں سیمیگلوٹائیڈ نامی دوا کا جائزہ لیا گیا، جو اوزیمپک کے نام سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے علاج اور ویگووی کے نام سے وزن کم کرنے کے لیے تجویز کی جاتی ہے۔ دونوں ادویات جی ایل پی ون ریسیپٹر ایگونسٹس کے گروپ سے تعلق رکھتی ہیں، جو قدرتی ہارمون کی طرح کام کرتے ہوئے خون میں شکر کی سطح اور بھوک کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
محققین نے 2018 سے 2024 تک ڈنمارک کے آبادی سے متعلق ریکارڈ کا تجزیہ کیا اور علاج شروع کرنے سے پہلے اور بعد میں افراد کے روزگار، کام کے اوقات اور آمدنی میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔ اس مقصد کے لیے شماریاتی طریقے استعمال کیے گئے تاکہ علاج کے اثرات کو لیبر مارکیٹ میں ہونے والی عمومی تبدیلیوں سے الگ کیا جا سکے۔
تحقیق کے مطابق ذیابیطس کے لیے سبسڈی پر اوزیمپک استعمال کرنے والے مریضوں میں ملازمت کے امکانات میں 4.1 فیصد پوائنٹس اضافہ ہوا، جبکہ ان کے کام کے اوقات میں ہر سہ ماہی کے دوران 19.5 گھنٹے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب وزن کم کرنے کے لیے اپنی جیب سے ویگووی کی قیمت ادا کرنے والے افراد میں ملازمت حاصل کرنے کے امکانات میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا، تاہم پہلے سے ملازمت کرنے والے افراد نے ہر سہ ماہی میں مزید 29.7 گھنٹے کام کیا۔
نیویارک یونیورسٹی ابوظبی کی اسسٹنٹ پروفیسر برائے معاشیات ویدا ناراسِمہن کے مطابق ادویات کے وسیع تر معاشی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے صرف ان کی براہ راست قیمت کو مدنظر رکھنا کافی نہیں۔ ملازمت اور کام کے اوقات کا الگ الگ جائزہ لینے سے مختلف علاج حاصل کرنے والے افراد کے نتائج اور سرکاری مالیات پر ممکنہ اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
محققین نے یہ بھی جائزہ لیا کہ کام کے اضافی اوقات اور آمدنی سے حاصل ہونے والا انکم ٹیکس سرکاری صحت کے اخراجات میں کس حد تک مددگار ہو سکتا ہے۔ ڈنمارک میں ذیابیطس کے علاج کے لیے اوزیمپک پر سبسڈی دی جاتی ہے، جبکہ وزن کم کرنے کے لیے ویگووی استعمال کرنے والے مریض اس کی مکمل قیمت خود ادا کرتے ہیں۔
تحقیق کے مالیاتی تجزیے کے مطابق ان ادویات کے استعمال سے مریضوں کی آمدنی میں اضافے کے نتیجے میں حاصل ہونے والا اضافی ٹیکس، ذیابیطس کے سبسڈی والے علاج پر ہونے والے سرکاری اخراجات کا کچھ حصہ پورا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
نیویارک یونیورسٹی ابوظبی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر برائے معاشیات راؤل سانتا اولالیا لوپس کا کہنا ہے کہ طبی علاج کا جائزہ صرف وزن میں کمی یا خون میں شکر کی سطح جیسے طبی پیمانوں پر نہیں لینا چاہیے بلکہ روزگار، کام کے اوقات اور ٹیکس آمدنی پر اس کے اثرات بھی دیکھنے چاہئیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان ادویات کے وسیع تر اثرات سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آیا یہ مستقل صحت مند طرز زندگی اپنانے میں مدد دیتی ہیں یا ان کے معاشی فوائد کا انحصار ادویات کے مسلسل استعمال پر رہتا ہے۔ ان کے مطابق ابوظبی کے محکمہ صحت کے ساتھ ثِقہ موٹاپا پروگرام پر جاری تحقیق میں بھی اس پہلو کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تحقیق کے نتائج سینٹر فار اکنامک پالیسی ریسرچ کے ایک ڈسکشن پیپر میں شائع کیے گئے ہیں۔ محققین کے مطابق سیمیگلوٹائیڈ کے معاشی اثرات مریضوں کی صحت کی حالت، ملازمت کی صورتحال اور علاج کے اخراجات کی ادائیگی کے طریقے کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔







