متحدہ عرب امارات

دیوالی اور دھن تیرس سے پہلے یو اے ای میں سونا سستا، خریدار سکوں اور ہلکے زیورات کی طرف متوجہ

خلیج اردو
دیوالی اور دھن تیرس کے تہوار سے قبل سونے کی قیمتوں میں کمی کے باعث متحدہ عرب امارات کے رہائشی خریداری کے مختلف طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔ کچھ صارفین سونے کے سکے خریدنے، ہلکے زیورات میں سرمایہ کاری کرنے یا گھروں کے لاکرز میں رکھے غیر استعمال شدہ زیورات فروخت کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

گزشتہ چند ماہ کے مقابلے میں قیمتوں میں کمی بعض خریداروں کے لیے سالانہ تہوار کی خریداری کا بہتر موقع بن گئی ہے، جبکہ دیگر صارفین مارکیٹ کی صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے پرانے زیورات کے بدلے نئے زیورات لینے اور خریداری سے پہلے مختلف دکانوں کی قیمتوں اور واپسی کی پالیسیوں کا موازنہ کر رہے ہیں۔

سونے کی خرید و فروخت سے وابستہ کاروباری افراد کے مطابق تہواروں کی خوشی اور قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ صارفین کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس عرصے میں روایتی طور پر سونے کی خریداری میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔

سیل یور گولڈ ڈاٹ اے ای کے رشی وایا کے مطابق قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد خریداروں اور فروخت کنندگان کا ردعمل مختلف ہوتا ہے۔ کچھ افراد جو قیمتیں بلند ہونے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں، سونا فروخت کرنے میں جلدی کرتے ہیں، جبکہ دیگر قیمتوں میں دوبارہ اضافے کی امید پر اپنا سونا اپنے پاس رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قیمتیں کم ہونے پر خریدار خریداری کے لیے تیار رہتے ہیں اور موجودہ صورتحال میں مارکیٹ کے اندر خریداری کا رجحان مضبوط دکھائی دے رہا ہے۔ دیوالی، دھن تیرس اور کرسمس قریب آنے کے باعث پہلے سے سونا خریدنے کا ارادہ رکھنے والے صارفین بھی موجودہ قیمتوں کو پرکشش سمجھ رہے ہیں۔

پیس آف یو جیولری کی بانی امرین اقبال کے مطابق کچھ صارفین ایسے زیورات فروخت کر رہے ہیں جو طویل عرصے سے استعمال نہیں ہوئے، جبکہ دیگر ان کی مالیت کو چھوٹی خریداری یا ہلکے اور روزمرہ استعمال کے قابل زیورات میں تبدیل کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سونے کی قیمتیں بلند ہونے پر صارفین اپنی رقم کے استعمال کے حوالے سے زیادہ محتاط ہو جاتے ہیں۔ خریدار اب قیمتوں کا موازنہ کرنے کے ساتھ پرانے زیورات کی واپسی کی پالیسیوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرتے ہیں اور سونے کو فوری خریداری کے بجائے طویل مدتی اثاثہ سمجھ رہے ہیں۔

امرین اقبال کے مطابق تہواروں کے قریب سونے کے سکوں، بسکٹوں اور ہلکے روزمرہ زیورات میں بھی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سونے کی ثقافتی اہمیت برقرار ہے، چاہے صارفین اس موقع پر نسبتاً چھوٹی اشیا ہی کیوں نہ خریدیں۔

رشی وایا نے پرانے زیورات کے بدلے نئے زیورات خریدنے والوں کو مشورہ دیا کہ دونوں لین دین ایک ہی جیولر سے کریں۔ ان کے مطابق پرانا سونا نقد فروخت کرکے کسی دوسری دکان سے نیا زیور خریدنے کی صورت میں دو الگ لین دین ہوتے ہیں اور دونوں میں دکاندار کا منافع شامل ہونے سے صارف کو دو مرتبہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے صارفین کو یہ بھی مشورہ دیا کہ قیمتی پتھروں سے جڑے زیورات کی قیمت لگانے، سونے کی خالصیت میں فرق اور حتمی پیشکش کا تعین کرنے کے طریقہ کار کو اچھی طرح سمجھیں۔ ان کے مطابق خریدار ایسے کاروباری ادارے کا انتخاب کریں جو قیمت کے تعین میں مکمل شفافیت فراہم کرے۔

متحدہ عرب امارات میں مقیم کئی بھارتی خاندانوں کے لیے دیوالی اور دھن تیرس پر سونا خریدنا صرف قیمتوں میں کمی کا فائدہ اٹھانے تک محدود نہیں بلکہ یہ خاندانی اور ثقافتی روایت کا حصہ بھی ہے۔

منجو اروڑا کا کہنا ہے کہ وہ ہر سال دھن تیرس پر سونا خریدنے کی کوشش کرتی ہیں، تاہم اس مرتبہ وہ سونے کے چند سکے خریدنے پر غور کر رہی ہیں، کیونکہ انہیں محفوظ رکھنا آسان ہے اور وہ مستقبل کے لیے سرمایہ کاری بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

بھاویا راؤ بھی خریداری سے پہلے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور دیوالی کے لیے ہلکا زیور خریدنے کو ترجیح دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہوئے وہ اس روایت کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔

دو بیٹیوں کی والدہ بھاویا راؤ کے مطابق وہ سونے کو طویل مدتی سرمایہ کاری سمجھتی ہیں، جو مستقبل میں ان کی بیٹیوں کی شادی یا تعلیم کے اخراجات کے لیے کارآمد ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button