متحدہ عرب امارات

اسرائیل میں انتخابی تعطل، حتمی نتائج 4 نومبر کو جاری ہوں گے، نئی حکومت کون بنائے گا؟

خلیج اردو
اسرائیل میں گزشتہ ہفتے ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کا راستہ واضح نہیں ہوسکا۔ یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد ملک میں پہلے عام انتخابات تھے۔ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کا حکومتی اتحاد پارلیمان میں اکثریت کھو بیٹھا، تاہم ان کے مخالف یہودی جماعتوں کا اتحاد بھی حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ کی مجموعی طور پر 120 نشستیں ہیں اور حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد پارلیمان تین گروپوں میں تقسیم ہوگئی ہے اور دونوں بڑے سیاسی اتحاد الگ الگ اکثریت حاصل نہیں کرسکے۔ نیتن یاہو نگران وزیراعظم کے طور پر عہدے پر برقرار ہیں، تاہم پارلیمان میں اپوزیشن ارکان کی تعداد زیادہ ہے جو انہیں اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

اب تک کے انتخابی نتائج

27 اکتوبر 2026 کو ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو کے دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد نے 53 نشستیں حاصل کیں۔ ان کی جماعت لیکوڈ 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑا پارلیمانی گروپ رہی۔ دوسری جانب مرکزیت پسند گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد نے 48 نشستیں حاصل کیں۔

سب سے زیادہ کامیابی عرب اسرائیلی جماعتوں کو حاصل ہوئی، جن کے ووٹرز نے بڑی تعداد میں انتخابات میں حصہ لیا۔ رعم اور جوائنٹ لسٹ نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں۔

منقسم نتائج کے باعث حکومت سازی کے لیے مشکل مذاکرات متوقع ہیں، جو کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔ کسی بھی سیاسی اتحاد کے پاس حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستیں موجود نہیں، جبکہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں نئے انتخابات کا امکان بھی موجود ہے۔

کنیسٹ کے انتخابات اصولی طور پر ہر چار سال بعد ہونے چاہئیں، تاہم اسرائیل میں قبل از وقت انتخابات کی روایت رہی ہے۔ سبکدوش ہونے والی 25ویں کنیسٹ 1988 کے بعد پہلی اسرائیلی پارلیمان بنی جس نے اپنی چار سالہ آئینی مدت قبل از وقت تحلیل ہوئے بغیر مکمل کی۔

اب آگے کیا ہوگا؟

انتخابی کمیشن کو حتمی نتائج کی تصدیق کرکے 4 نومبر کو صدر اسحاق ہرزوگ کے حوالے کرنا ہوں گے، جبکہ نئی کنیسٹ 10 نومبر کو حلف اٹھائے گی۔ اس کے بعد صدر مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت کریں گے اور اس امیدوار کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے جس کے بارے میں انہیں یقین ہو کہ وہ مطلوبہ حمایت حاصل کرسکتا ہے۔

نامزد امیدوار کو حکومت تشکیل دینے کے لیے 42 دن ملیں گے۔ اگر وہ ناکام رہا تو کسی دوسرے امیدوار کو موقع دیا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد بھی حکومت نہ بن سکی تو کنیسٹ کسی اور رکن کو نامزد کرسکتی ہے۔ اس پورے عمل کے لیے تقریباً 100 دن کی مدت مقرر ہے۔ اگر کوئی امیدوار کامیاب نہ ہوا تو ملک میں دوبارہ انتخابات ہوسکتے ہیں۔

صدر اسحاق ہرزوگ کے سامنے بن یامین نیتن یاہو اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ ممکنہ امیدواروں کے طور پر موجود ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے انتخابی نتائج کے باوجود نئی حکومت بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ تاہم دونوں میں سے کسی کے پاس بھی پارلیمان میں اپنی جماعتوں کے بل بوتے پر اکثریت موجود نہیں۔

انتخابات چوری ہونے کے الزامات

نیتن یاہو کے سیاسی کیمپ نے الزام عائد کیا ہے کہ عرب اسرائیلی جماعتوں کو انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے بیرونی ممالک سے مالی معاونت فراہم کی گئی۔ ان کی جماعت لیکوڈ نے دعویٰ کیا کہ عرب جماعت رعم کو قطر سے ووٹ خریدنے کی سرگرمیوں کے لیے رقم ملی۔

لیکوڈ پارٹی نے جمعرات کو اپنے بیان میں انتخابات کو چوری شدہ قرار دیتے ہوئے اسے سیاسی زلزلہ قرار دیا۔ دوسری جانب اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے شن بیت نے انتخابی بے ضابطگیوں کے شبہے میں تحقیقات شروع کرنے کی تصدیق کی، تاہم واضح کیا کہ اس کا مقصد ووٹ ڈالنے والے کسی پورے طبقے کو مورد الزام ٹھہرانا نہیں۔

اسرائیلی انتخابی کمیشن کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈین لیوین نے بھی وسیع پیمانے پر انتخابی بے ضابطگیوں کے دعووں کو بے بنیاد قرار دیا۔ کمیشن کے مطابق تحقیقات سے انتخابی نتائج متاثر نہیں ہوں گے۔
The Times of Israel+2

عرب جماعت رعم کے رہنما منصور عباس نے کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے تحقیقات کا خیرمقدم کیا ہے۔ جوائنٹ لسٹ نے نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں پر عرب ووٹرز کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کے باعث اشتعال انگیز مہم چلانے کا الزام عائد کیا۔

قطر نے بھی اپنے خلاف الزامات کو مضحکہ خیز اور خطرناک قرار دیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق اسرائیل کے اندرونی سیاسی تنازعات میں قطر کو گھسیٹنے کی کوشش کی جارہی ہے، جسے خلیجی ملک قبول نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button