متحدہ عرب امارات

دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک طالب علم ماہانہ ہراسانی کا شکار، یو اے ای میں والدین کو خبردار کردیا گیا

خلیج اردو
یونیسکو کے مطابق دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک طالب علم کو ہر ماہ ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر شارجہ کی چائلڈ سیفٹی آرگنائزیشن نے والدین، اساتذہ اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور ہراسانی کی ایسی علامات پہچانیں جو اکثر نظر انداز ہوجاتی ہیں۔

تنظیم نے منگل 3 نومبر کو جاری بیان میں خبردار کیا کہ بچوں کو ہراساں کرنا صرف جسمانی تشدد یا زبانی بدتمیزی تک محدود نہیں۔ اس میں بچوں کو جان بوجھ کر سرگرمیوں سے الگ رکھنا، ان کے بارے میں افواہیں پھیلانا، سب کے سامنے تضحیک کرنا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ہراساں کرنا بھی شامل ہے۔

یونیسکو کے مطابق ہراسانی کا سامنا کرنے والے طلبہ میں شدید تنہائی، بے خوابی اور خودکشی کے خیالات پیدا ہونے کا امکان دیگر طلبہ کے مقابلے میں دوگنا ہوتا ہے۔ ہراسانی کو بے چینی، ڈپریشن، سماجی میل جول سے دوری اور تعلیمی کارکردگی میں کمی سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔

تنظیم نے واضح کیا کہ بچوں کو ہراساں کرنے کے واقعات صرف سکولوں کے کلاس رومز اور کھیل کے میدانوں تک محدود نہیں بلکہ خاندانوں، دوستوں کے گروپس، غیر نصابی سرگرمیوں اور آن لائن کمیونٹیز میں بھی پیش آسکتے ہیں۔

کسی بچے کی ظاہری شکل کا بار بار مذاق اڑانا، دوسروں سے منفی انداز میں موازنہ کرنا یا اس کے احساسات کو اہمیت نہ دینا بھی جذباتی نقصان کا باعث بن سکتا ہے، چاہے بڑے افراد اسے معمولی مذاق یا تربیت کا حصہ سمجھتے ہوں۔ چائلڈ سیفٹی آرگنائزیشن کے مطابق بڑوں کو اپنے رویوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے کیونکہ بچے اپنے والدین، اساتذہ اور دیکھ بھال کرنے والوں کو دیکھ کر دوسروں کے ساتھ برتاؤ کرنا سیکھتے ہیں۔

تنظیم نے کہا کہ بچوں کے درمیان ہر اختلاف کو ہراسانی نہیں کہا جاسکتا، تاہم جب نقصان دہ رویہ بار بار دہرایا جائے اور اس میں طاقت کا عدم توازن بھی موجود ہو تو اس پر توجہ دینا اور مداخلت کرنا ضروری ہے۔

والدین کو بچوں کے رویوں میں اچانک تبدیلیوں پر نظر رکھنی چاہیے، جو ہراسانی کا شکار ہونے کی نشاندہی کرسکتی ہیں۔ ان علامات میں غیر معمولی طور پر خاموش یا الگ تھلگ رہنا، سکول جانے سے انکار، دوستوں یا ڈیجیٹل آلات کے حوالے سے بے چینی، نیند کے معمولات میں تبدیلی اور تعلیمی کارکردگی متاثر ہونا شامل ہیں۔

تاہم تنظیم نے واضح کیا کہ ان علامات کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ بچہ ہراسانی کا شکار ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں سے پرسکون انداز میں بات کریں، ان کی بات سنیں اور کسی قسم کا فیصلہ سنائے بغیر انہیں اعتماد فراہم کریں۔

چائلڈ سیفٹی آرگنائزیشن نے والدین اور اساتذہ پر زور دیا کہ بچوں کو ہراسانی کی مختلف اقسام سے آگاہ کریں، جن میں جسمانی، زبانی، سماجی اور سائبر ہراسانی شامل ہیں۔ اگر کوئی بچہ ہراسانی کی شکایت کرے تو بڑوں کو اس کی بات توجہ سے سننی چاہیے اور اسے یقین دلانا چاہیے کہ بدسلوکی کا ذمہ دار وہ نہیں ہے۔ اس کے ساتھ سکول انتظامیہ یا متعلقہ حکام کے تعاون سے بچے کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔

تنظیم نے ایسے بچوں کو بھی ہدایت کی جو کسی دوسرے بچے کو ہراساں ہوتے دیکھیں کہ وہ اس رویے میں شریک نہ ہوں اور نہ ہی آن لائن توہین آمیز مواد پھیلائیں۔ اس کے بجائے متاثرہ بچے کا ساتھ دیں اور واقعے کی اطلاع کسی قابل اعتماد بڑے فرد کو دیں۔

جو بچے دوسروں کو ہراساں کرتے ہیں، ان کے لیے تنظیم نے واضح حدود مقرر کرنے کے ساتھ رہنمائی اور تعلیم دینے کی تجویز دی ہے۔ بچوں کو ذلیل کرنے یا ان پر کوئی منفی شناخت مسلط کرنے کے بجائے انہیں اپنے عمل کے نتائج سمجھانے، دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنے اور اپنی غلطی کی ذمہ داری قبول کرنے میں مدد دی جائے۔

تنظیم کے مطابق ہراسانی کی روک تھام صرف بچوں کو اپنا دفاع کرنا سکھانے سے ممکن نہیں، بلکہ خاندانوں، سکولوں اور معاشرے کو مل کر نقصان دہ رویوں کی ابتدائی مرحلے پر نشاندہی کرنا اور انہیں بار بار ہونے والی بدسلوکی میں تبدیل ہونے سے روکنا ہوگا۔

چائلڈ سیفٹی آرگنائزیشن نے والدین کو مثبت تربیتی طریقوں سے آگاہ کرنے اور ان کی مدد کرنے کی اہمیت بھی اجاگر کی، تاکہ وہ پہچان سکیں کہ ان کے بچے خود ہراسانی کا شکار ہیں یا دوسروں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کررہے ہیں۔ تنظیم نے زور دیا کہ بچوں کی جذباتی صحت اور عزت نفس کے تحفظ کے لیے بڑوں کی مسلسل توجہ اور عملی اقدامات ضروری ہیں، تاکہ ہر بچے کو محفوظ ماحول ملے اور وہ خود کو قابل احترام اور قبول شدہ محسوس کرے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button