
خلیج اردو
امریکی ریاست مشی گن سے ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر عبدالسلام السید کی سینیٹ انتخابات میں کامیابی پر دبئی میں مقیم ان کے رشتہ داروں نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام السید کی اہلیہ ڈاکٹر سارہ جوکاکو کی کزن زہرا جوکاکو کے مطابق انتخابی نتائج سامنے آتے ہی خاندان کے واٹس ایپ گروپس میں مبارک باد کے پیغامات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
زہرا جوکاکو نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خاندان کے افراد مسلسل انتخابی نتائج دیکھ رہے تھے اور جیسے ہی کامیابی کا اعلان ہوا، سب کے فون پر مبارک باد کے پیغامات آنے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ڈاکٹر سارہ اور عبدالسلام دونوں کے لیے بہت خوش ہیں، عبدالسلام ایک بہترین انسان ہیں اور اس کامیابی کے مستحق ہیں۔
ڈاکٹر عبدالسلام السید نے منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کی نشست جیتی۔ 42 سالہ ڈاکٹر السید امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان قرار دیے گئے ہیں۔ ان کی انتخابی مہم کا بنیادی پیغام مہنگائی اور اخراجات میں کمی اور سب کے لیے میڈی کیئر کی سہولت متعارف کرانے پر مرکوز تھا۔
زہرا کے مطابق ڈاکٹر عبدالسلام ہمیشہ سے اصول پسند اور دوسروں کے لیے مثال رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عبدالسلام آخری مرتبہ 2011 کے لگ بھگ دبئی آئے تھے، اس موقع پر ان کی والدہ نے ان سے چھوٹے بھائیوں کو نصیحت کرنے کی درخواست کی۔ عبدالسلام نے بتایا کہ جب ان کے استاد نے انہیں پانچ کتابیں پڑھنے کا کہا تو انہوں نے دس کتابیں پڑھیں اور مشورہ دیا کہ ہمیشہ توقعات سے بڑھ کر کام کرنا چاہیے۔
زہرا نے بتایا کہ آج ان کے ایک بھائی امریکا میں ڈاکٹر ہیں۔ خاندان کی آخری ملاقات رواں سال اپریل میں بھائی کی شادی کے موقع پر ہوئی تھی، جس میں عبدالسلام اور ان کی اہلیہ سارہ نے انتخابی مصروفیات کے باوجود شرکت کی۔ ان کے مطابق عبدالسلام کی یہ نصیحت آج بھی انہیں یاد ہے اور وہ اپنے تین بیٹوں کو بھی اس سے آگاہ کرتی ہیں۔
ڈاکٹر سارہ کے چچا اور متحدہ عرب امارات میں طویل عرصے سے مقیم فضل جوکاکو نے بھی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی روز سے خاندان کے واٹس ایپ گروپس میں انتخابات پر گفتگو جاری تھی اور امریکا سے مبارک باد کی کالز بھی موصول ہورہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پورے خاندان کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔
فضل جوکاکو کے مطابق عبدالسلام السید خاندان کے ساتھ قریبی تعلق رکھتے ہیں اور کئی برس سے ان کی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ عبدالسلام ان کے بیٹے کی فلوریڈا میں شادی میں بھی شریک ہوئے تھے اور تقریب سے خطاب کیا تھا۔ وہ اور سارہ جب بھی دبئی آتے ہیں تو خاندان کے گھر ضرور جاتے ہیں، جبکہ امریکا کے دورے کے دوران بھی ملاقات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عبدالسلام السید خاندان کے آبائی شہر بھٹکل، بھارتی ریاست کرناٹک، کا بھی دو مرتبہ دورہ کرچکے ہیں۔ فضل جوکاکو نے اپنے والد جے ایچ شمس الدین جوکاکو کی سماجی اور سیاسی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد نے بھٹکل کی ترقی کے لیے کام کیا تھا اور وہاں ایک چوراہا ان کے نام سے منسوب ہے۔
زہرا جوکاکو کے مطابق خاندان کے متعدد افراد نے انتخابی مہم میں عبدالسلام السید کی مدد کے لیے مختلف امریکی ریاستوں، خصوصاً کیلیفورنیا اور نیویارک سے مشی گن کا سفر کیا، جبکہ کینیڈا سے بھی ایک رشتہ دار انتخابی مہم میں حصہ لینے پہنچا۔ خاندان کے افراد نے گھر گھر جاکر ووٹرز سے رابطے کیے اور اپنی استطاعت کے مطابق انتخابی مہم میں تعاون کیا۔
ڈاکٹر عبدالسلام السید کے سسر ڈاکٹر طیب جوکاکو بھی انتخابی مہم کے بڑے معاونین میں شامل رہے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے سینیٹ انتخابی مہم کی حمایت کرنے والی مرکزی سیاسی ایکشن کمیٹی کو تین لاکھ ڈالر عطیہ کیے تھے۔
فضل جوکاکو نے کہا کہ خاندان عبدالسلام کی نئی ذمہ داری کے لیے دعاگو ہے اور امید کرتا ہے کہ وہ عوام کی خدمت میں کامیاب رہیں گے۔







