متحدہ عرب امارات

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی تاریخی کامیابی، سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اکثریت حاصل کرلی

خلیج اردو
امریکا کے وسط مدتی انتخابات 2026 میں ڈیموکریٹک پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں کا کنٹرول حاصل کرلیا۔ کئی دہائیوں سے ری پبلکن پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھی جانے والی ریاستوں میں ڈیموکریٹ امیدواروں نے کامیابی حاصل کی، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل قرار دیا جارہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ، مہنگائی، روزمرہ اخراجات میں اضافے اور صدر ٹرمپ کی حکومتی کارکردگی سے عوامی ناراضی نے انتخابی نتائج پر نمایاں اثر ڈالا۔ ڈیموکریٹس نے جنوبی کیرولائنا، شمالی کیرولائنا، آئیووا، کنساس، اوہائیو، ٹیکساس اور مین سمیت مختلف ریاستوں میں ری پبلکنز کی طویل عرصے سے قائم نشستیں چھین لیں۔

ریاست مین میں ڈیموکریٹ امیدوار ٹرائے جیکسن نے طویل عرصے سے سینیٹر منتخب ہونے والی ری پبلکن سوزن کولنز کو شکست دے دی۔ اس کامیابی کے ساتھ ڈیموکریٹس نے ری پبلکنز سے سینیٹ کی ساتویں نشست بھی حاصل کرلی۔ کنساس میں تقریباً ایک صدی بعد پہلی مرتبہ ڈیموکریٹ سینیٹر منتخب ہوا، جبکہ ٹیکساس میں ڈیموکریٹس نے سینیٹ کی نشست جیتنے کے ساتھ تین مرتبہ گورنر رہنے والے گریگ ایبٹ کو بھی شکست دے دی۔

انتخابات کے سب سے بڑے اپ سیٹس میں جنوبی کیرولائنا سے ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر اینی اینڈریوز کی کامیابی شامل ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدوار ڈارلین گراہم کو شکست دی۔ دو سال قبل صدارتی انتخابات میں ٹرمپ نے اس ریاست میں تقریباً 18 فیصد پوائنٹس کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔

شمالی کیرولائنا میں ڈیموکریٹ امیدوار رائے کوپر نے بھی سینیٹ کی نشست جیت لی۔ ان دونوں کامیابیوں نے ڈیموکریٹس کو سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے درکار چار اضافی نشستوں میں سے دو فراہم کردیں۔ جارجیا میں جون اوسوف نے دوبارہ سینیٹر منتخب ہوکر اپنی نشست برقرار رکھی، جبکہ نیو ہیمپشائر سے کرس پاپاس امریکی سینیٹ کے پہلے کھلے عام ہم جنس پرست مرد رکن منتخب ہوئے۔

فلوریڈا میں ری پبلکن سینیٹر ایشلے موڈی نے ڈیموکریٹ امیدوار اینجی نکسن کو شکست دی، تاہم کامیابی کا فرق تقریباً تین فیصد پوائنٹس رہا۔ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ نے اسی ریاست میں 13 فیصد پوائنٹس کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔

مشی گن سے ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر عبدالسلام السید نے بھی سینیٹ کی نشست جیت کر امریکی تاریخ میں پہلے مسلمان سینیٹر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دی، جنہیں صدر ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی۔

ایوان نمائندگان کے نتائج نے بھی ری پبلکن پارٹی کے لیے بڑے سیاسی دھچکے کی نشاندہی کی۔ انڈیانا میں ڈیموکریٹ امیدوار جے ڈی فورڈ نے ری پبلکن رکن کانگریس وکٹوریہ سپارٹز کو شکست دے دی۔ یہ وہ حلقہ تھا جہاں 2024 میں ٹرمپ نے 17 فیصد پوائنٹس کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ شمالی کیرولائنا میں بھی ڈیموکریٹس نے ری پبلکنز کی ایک نشست جیت لی۔

جارجیا میں سابق ڈیموکریٹ میئر اٹلانٹا کیشا لانس باٹمز نے گورنر کا انتخاب جیت کر امریکی تاریخ کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کامیابی کے ساتھ ریاست میں ری پبلکن پارٹی کی 24 سالہ حکمرانی بھی ختم ہوگئی۔ فلوریڈا میں ٹرمپ کے حمایت یافتہ بائرن ڈونلڈز گورنر منتخب ہوئے اور ریاست کے پہلے سیاہ فام گورنر بنے۔

انتخابی جائزوں کے مطابق نصف امریکی ووٹرز نے وسط مدتی انتخابات کو صدر ٹرمپ کے خلاف ردعمل ظاہر کرنے کا موقع قرار دیا، جبکہ تین چوتھائی ووٹرز نے ملک کی سمت کے حوالے سے غصے یا عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ 70 فیصد ووٹرز کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کانگریس صدر کے اختیارات پر مزید نگرانی اور توازن قائم کرے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ انصاف نے انتخابات کے دوران تمام 50 ریاستوں میں ایک ہزار انتخابی مانیٹرز اور مبصرین تعینات کیے۔ محکمہ انصاف نے اسے انتخابی دن کی تاریخ میں نگرانی کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا، تاہم ڈیموکریٹس اور قانونی مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس اقدام سے ووٹرز پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔

الاسکا میں سینیٹ کی نشست کے انتخاب کے حوالے سے بھی تنازع سامنے آیا، جہاں نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ڈیموکریٹ امیدوار میری پیلٹولا کی انتخابی مہم نے ری پبلکن امیدوار ڈین سلیوان کے ہم نام ایک آزاد امیدوار کو میدان میں اتارنے میں مدد کی۔ میری پیلٹولا نے اس الزام کی تردید کی ہے، جبکہ صدر ٹرمپ کے محکمہ انصاف نے معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button