
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں رہائشی جلد ایسی اڑنے والی گاڑی کے مالک بن سکیں گے جسے سڑکوں پر چلانے، گھر میں پارک کرنے اور ضرورت پڑنے پر مختصر فضائی سفر کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ چینی کمپنی ایریج (Aridge) اپنی جدید فلائنگ کار مارکیٹ میں متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔
کمپنی کی لینڈ ایئرکرافٹ کیریئر نامی گاڑی چھ پہیوں پر مشتمل ہے، جس کے پچھلے حصے میں دو افراد کی گنجائش رکھنے والا الیکٹرک طیارہ موجود ہے۔ مالک گاڑی کو سڑک پر چلا کر مخصوص مقام تک لے جا سکے گا، جہاں سے طیارے کو الگ کرکے فضائی سفر کیا جا سکے گا۔
ایریج کے شریک بانی اور نائب صدر وانگ تان کے مطابق گاڑی اور طیارے کو الگ کرنے اور دوبارہ جوڑنے کا عمل خودکار ہے اور صرف ایک بٹن دبانے سے مکمل ہو جاتا ہے۔ طیارے کو دوبارہ گاڑی میں نصب کرنے کے لیے خودکار نظام استعمال ہوتا ہے، جس میں کیمرے اور خصوصی سسپنشن مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس عمل میں تقریباً چار سے پانچ منٹ لگتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق اس گاڑی کو عام صارفین کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، تاکہ انہیں طیارہ رکھنے کے لیے الگ ہینگر یا ایئرپورٹ کی ضرورت نہ پڑے اور وہ اسے اپنی پارکنگ میں کھڑا کر سکیں۔ کمپنی کو دنیا بھر سے تقریباً 7 ہزار پری آرڈرز موصول ہو چکے ہیں، جن میں سے تقریباً 600 خلیجی ممالک سے ہیں۔
تاہم گاڑی کی ملکیت حاصل کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ مالک اپنی مرضی سے کہیں بھی پرواز کر سکے گا۔ اس کے لیے پہلے چینی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے ٹائپ سرٹیفکیشن حاصل کرنا ہوگا، جس کے بعد متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی سے منظوری لی جائے گی۔
کمپنی نے راس الخیمہ کے ساتھ ٹیکنالوجی کی آزمائش کے لیے ایک ریگولیٹری سینڈ باکس قائم کرنے کا معاہدہ بھی کیا ہے۔ مستقبل میں اس گاڑی کے لیے مخصوص فلائنگ مقامات، فضائی حدود کے ضوابط اور ہیلی کاپٹر لینڈنگ کی موجودہ سہولتوں کو استعمال کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔







