متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات: سوشل میڈیا پر کسی کی بے عزتی کرنے پر 2 لالکھ درہم سے زائد جرمانہ اور جیل کی سزا ہو سکتی ہے

آن لائن یا سوشل میڈیا پر کسی کو بد نام یا بے عزتی کیے جانے پر یو اے ای کا قانون کیا کہتا ہے؟

 

خلیج اردو آن لائن: اگر آپ کو کبھی سوشل میڈیا پر کسی کی جانب سے بدنام کیے جانے جیسے جرم کا شکار ہوئے ہیں تو آپ کے پاس اس شخص کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے کون کون سے راستے موجود ہیں؟ اس مضمون میں اس سوال کا تفصیلی جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

آن لائن یا سوشل میڈیا پر بد نام یا بے عزتی کیے جانے پر یو اے ای کا قانون کیا کہتا ہے؟

ایسا شخص جو کمپیوٹر نیٹ ورک یا کوئی انفارمیشن سسٹم استعمال کرتے ہوئے درج ذیل طریقوں:

1۔ کسی شخص کی آڈیو، ویڈیو یا گفتگو  کو ریکارڈ کرنے، آگے جاری کرنے، اخفا کرنےکے لیے،

2۔ کسی دوسرے کی تصویریں بنانا، آگے بھیجنا، لیک کرنا، یا الیکٹرونک تصویروں کو کاپی یا محفوظ کرنا

3۔ خبر، تصویر، کمنٹس، بیانات اور معلومات سچی ہونے کے باوجود شائع کرنے والے شخص کو کو  یو اے ای کے 2012 کے ٖفیڈرل لاء نمبر 5 کے آرٹیکل 21 کے مطابق ” کم از 6 ماہ کی قید کی سزا اور ڈیڑھ لاکھ درہم سے  زیادہ اور 5 لاکھ درہم سے کم کے جرمانے کی سزا دی جائے گی”۔

ایسے شخص جو کسی دوسرے شخص کی بد نامی کے لیے یا اس کی پرائیویسی میں دخل دینے کے لیے کسی بھی قسم کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے تصاویر، ریکارڈ اور ویڈیوز میں تبدیلی کرتا ہے تو ایسے شخص کو ” کم از کم ایک سال قید کی سزا اور ڈھائی لاکھ درہم سے زیادہ اور 5 لاکھ درہم کم جرمانے سزا ہو سکتی ہے، یا دونوں میں سے کوئی ایک سزا دی جا سکتی ہے”۔

"ایسا شخص جو کسی بھی ذریعے سے بغیر کسی خاض وجہ کے کسی دوسرے شخص کی بے عزتی کرتا ہے تو اس پر کم از کم 10 ہزار درہم جرمانہ کیا جا سکتا ہے”۔

"کسی سرکاری ملازم ساتھ  دوران ڈیوٹی گالم گلوچ کرنے والے شخص کو کم از کم 2 سال قید کی سزا اور 20 ہزار درہم جرمانہ، یا دونوں میں سے کوئی ایک سزا دی جا سکتی ہے”۔

ایسے کسی جرم کا شکار ہونے کی صورت میں شکایت کیسے درج کروا سکتے ہیں؟

  • ایسے کی جرم شکایت آٌپ پبلک پراسیکیوٹر یا پولیس کے پاس درج کروا سکتے ہیں۔
  • دبئی پولیس کا آن لائن پورٹل (ecrime.ae) سائبر کرائم کی شکایت درج کروانے کی سہولت دیتا ہے
  • پبلک پراسیکیوشن کے پاس آپ زیل میں دی گئی ویب سائٹ سے رابطہ کر سکتے ہیں:
  • pp.gove.ae
  • اپنے علاقے کے پولیس اسٹیشن جا سکتے ہیں یا 999 پر کال کر کے شکایت درج کروا سکتے ہیں۔

Source: Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button