خلیج اردو – امارات نیوز ایجنسی کے مطابق ابوظبی کے گہرے پانی کی بندرگاہ خلیفہ پورٹ سے شروع کی جانے والی یہ سروس آٹھ جہازوں کے بیڑے پر مشتمل ہوگی اور اسکی گنجائش 10,000سے 13,000 ٹی ای یو کے درمیان ہوگی۔ ابو ظبی سے روٹرڈیم، ہیمبرگ، لندن، انٹورپ اور لی ہاور کی بندرگاہوں تک براہ راست برآمدات بنیادی طور پر پولیمر پر مشتمل ہوں گی جبکہ واپسی جہازوں میں عمومی اور پروجیکٹ کارگو کی درآمد کا مکس ہوگا۔
نئی سروس سے کراچی، نہوا شیوا اور منڈرا کی بندرگاہوں کو بھی فائدہ ہوگا۔ سی ایس پی ابو ظبی ٹرمینل کے ڈپٹی سی ای او نصر البوسعیدی نے کہا کہ سی ایس پی ابو ظبی ٹرمینل کے باضابطہ آغاز کے ایک سال بعداب ہم عالمی سطح پر اپنی براہ راست خدمات پیش کرنے کیلئے اچھی پوزیشن میں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہماری نئی سروس سے ابو ظبی، یورپ اور بھارت کے درمیان کارگو برآمدات اور درآمدات کی نقل و حرکت میں نمایاں اضافہ ہوگا جو ہمارے صارفین کو بین الاقوامی سامان کی فراہمی کی ضروریات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ نئی مارکیٹوں کو تلاش کا موقع فراہم کرے گا
۔ خلیفہ پورٹ کے قائم مقام ڈائریکٹر محمد عیدھا تنف المنہالی نے کہا کہ یہ نئی سروس خلیفہ پورٹ کے اختتام سے آخر تک رسد کی صلاحیت کو تبدیل کرنے کے ابو ظبی پورٹس کے وژن میں ایک اہم اسٹریٹجک قدم ہے۔ انھوں نے کہا کہ یورپ اور شمال مغربی برصغیر پاک وہند میں دنیا کے سب سے اہم سمندری مراکز کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی صلاحیت 21 ویں صدی میں ایک اہم سہولت کار اور عالمی تجارت کے قابل بنانے والے کی حیثیت سے ابوظبی کی پوزیشن کو مزید مضبوط بنائے گی ۔ اپنے آغاز سے ہی سی ایس پی ابو ظبی ٹرمینل نے مقامی مینوفیکچرنگ، گودام اور رسد کے شعبوں کو ابوظبی بلکہ مشرق وسطی، افریقہ اور اس سے آگے کی منڈیوں تک اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے کے لئے ہر قسم کی سہولت فراہم کی ہے۔ توقع ہے کہ یہ براہ راست سروس خطے کے صارفین اور خلیفہ انڈسٹریل زون ابو ظبی کو اضافی معاونت فراہم کرے گی جس سے انھیں مسابقتی نرخ فراہم کرکے درآمدی اور برآمدی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔







