خلیج اردو آن لائن:
دبئی کی ابتدائی عدالت میں چوری کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران لیبیائی انجینئر نے عدالت کو بتایا کہ وہ پچھلے 10 سالوں سے اپنے ال گرہود بنگلے میں رہ رہا ہے۔ اور اس نے دبئی کی اعلی سیکیورٹی کے باعث کبھی گھر کے دروازوں کو تالا لگانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
تاہم ایک رات 3 بجے اس نے کمرے میں ایک آواز سنی، جب وہ اس کمرے میں گیا تو اس نے وہاں ایک چور کو دیکھا جو قیمتی اشیاء تلاش کر رہاتھا۔
متاثرہ شخص نے واقع کے حوالے سے مزید بتایا کہ ” چور نے چہرے پر ماسک پہن رکھا تھا، میں اس پر چلایا اور اس نے فرار ہونے کی کوشش کی۔ جس پر میں اس کے پیچھے بھاگا اور اس نے مجھے پیچ کس کے ساتھ زخمی کر دیا ہے۔ اس اثنا میں میری اہلیہ نے پولیس کو فون کردیا جو موقع پر پہنچ گئی اور اسے گرفتار کر لیا”۔ اور متاثرہ شخص کو زخموں کے اعلاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
دبئی پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ 63 سالہ سوڈانی ملزم کوجب گرفتار کیا گیا تو وہ نشے کی حالت میں تھا۔
پولیس اہکار نے بتایا کہ ” مدعا علیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ کیونکہ وہ نشے کی حالت میں تھا اس لیے اسے پتہ نہیں کہ وہ کیوں بنگلے میں داخل ہوا۔ اس نے مزید کہا کہ بنگلے کا دروازہ کھلا ہو تھا”۔
تاہم دبئی پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے مدعا علیہ پر چوری کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔
مقدمے کی اگلی سماعت 20 ستمبر کو ہوگی۔
Source: Gulf News







