خلیج اردو آن لائن: ایئر پورٹ پر مسافروں کی معلومات کو پراسیس کرنے والے سسٹم میں ایک چھوٹی غلطی کی وجہ سے 127 بنگلہ دیشی ابو ظہبی ایئر پورٹ پر ایک ہفتے سے پھنسے ہوئے ہیں۔
بنگلہ دیشی سفارت خانے کے لیبر قونصلر نے اس حوالے سے نجی خبررساں ادارے گلف نیوز کو بتایا کہ "جمعہ کے روز 400 مسافروں کو لانے والے دو طیارے ابو ظہبی ایئرپورٹ پر لینڈ ہوے۔ لیکن ان میں سے 127 مسافروں کو سسٹم میں ایک غلطی کی وجہ سے ابو ظہبی میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مسافروں کو انکی کچھ معلومات حکام تک وقت پر نہ پہچنے کی وجہ روکا گیا”۔
لیبر قونصلر کا مزید کہنا تھا کہ ” روکنے جانے والے مسافروں کے ویزوں یا کورونا سے متعلق ان کے اسٹیٹس میں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ تاہم یہ مسئلہ دونو پروازوں کے ایڈوانس پسنجر انفارمیشن سسٹم(API) میں کسی خرابی کے باعث ہو تھا”۔
ایڈوانس پسنجر انفارمیشن سسٹم(API) کیا ہے؟
ایڈوانس پسنجر انفارمیشن سسٹم(API) میں مسافروں کی دیگر معلومات کے علاوہ انکے پاسپورٹ کی معلومات بھی ہوتی ہے۔ جو بہت سارے ممالک کی ایمگریشن حکام کو روانگی سے پہلے چاہیے ہوتی ہے۔ تاکہ اندورون ملک اور بیرون ملک جانے والی پروازوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
بنگلہ دیشی ایمبیسی کے لیبر قونصلر کے مطابق API کے بغیر مسافروں کے پاس مناسب سیفٹٰی کلیئرنس نہیں ہوتی۔
لہذا اس کیس میں بھی ایسا ہی ہوا، API حکام تک وقت نہ پہیچنے سے مسافروں ملک میں داخلے کی اجازت نہیں ملی، اور اس صورتحال میں مسافروں کے داخلے کو ممکن بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا جاسکا۔
تاہم بنگلہ دیشی ایمبیسی کی کاششوں کی بدولت پھنسے ہوئے مسافروں میں 75 کو بیمن بنگلہ دیش ایئرلائن پر ملک واپس بھیج دیا گیا ہے۔ لیبر قونصلر عبدل عالم کا کہنا تھا کہ "ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں کہ بقیہ کارکن جلد واپس چلے جائیں۔ اور ورکرز چونکہ سسٹم کے مسئلے کی وجہ سے پھنسے ہوئے تھے اس لیے ہم نے تجویز کی ہے کہ ایئر لائنز مسافروں کو معاوضہ فراہم کریں”۔
واضح رہے کہ پھنسے ہوئے مسافر اس وقت ایئرپورٹ کے ہوٹل میں مقیم ہیں۔
Source: Gulf News






