متحدہ عرب امارات

شریف خاندان کے مالی معاملات دیکھنے والے آفیسر کا منی لانڈرنگ کا اعتراف، نیب رپورٹ میں انکشاف

ملزم محمد عثمان نے منی لانڈرنگ شہاز شریف کے خاندان کے لیے کی، نیب رپورٹ

خلیج اردو آن لائن: قومی احتساب بیور کی جانب سے 3 اگست کو شریف خاندان کے مالی معاملات دیکھنے والے چیف فنانشل آفیسر محمد عثمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم اب نیب کی جانب محمد عثمان سے ابتک کی جانے والی تحقیقات کی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کئی انکشافات کیے گئے ہیں۔

قومی احتساب بیورو نیب کی جانب سے جاری کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ کے شریف خاندان کے مالی معاملات دیکھنے والے چیف فنانشل افیسر نے شریف خاندان کے لیے منی لانڈرنگ کرنے کا  اعتراف کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزم محمد عثمان نے منی لانڈرنگ شہاز شریف فیملی کے لیے کی۔

نیب کی ملزم محمد عثمان سے کی جانے والی تحقیقات کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملزم نے 2005 میں 90 ہزار تنخواہ پر شریف خاندان کی رمضان شوگر میں ملازمت شروع کی۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2007 میں شہباز شریف نے اپنے بزنس کو بڑھانے کے لیے شریف فیڈ مل سمیت کئی اور کمپنیاں بنائیں۔

رپورٹ کے مطابق جب ملزم محمد عثمان سے نئی کمپنیوں کے لیے سرمائے کے حوالے سے پوچھا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ نئی بنائی گئی کمپینیوں کو چلانے کے فنڈز کے لیے غیر ملکی ترسیلات کے ذرائع بنائے گئے۔ ملزم کا مزید کہنا تھا کہ ان غیر ملکی فنڈز اور قرضہ جات کے لیے نصرت شہباز اور ان کے بیٹوں کے بینک اکاؤنٹس استعمال کیے گئے۔

نیب رپورٹ بتایا گیا ہے کہ جب ملزم سے شہباز شریف کی منی لانڈرنگ سے متعلق پوچھا گیا تو اس کہنا تھا کہ وہ سب کچھ سلیمان شہباز کے کہنے پر کرتا تھا، سلمان شہباز کے کہنے پر وقار ٹریڈنگ کمپنی نے 600 ملین کی جعلی غیر ملکی ترسیلات کیں۔

تاہم محمد سلمان کا کہنا تھا کہ اسے معلوم نہیں کہ سلمان شہباز کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا۔

نیب رپورٹ میں کہا گیا ہے ملزم محمد عثمان سے تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

Source: Geo News Urdu

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button