خلیج اردو آن لائن:
متحدہ عرب امارات کے یکم مارچ کے بعد ایکسپائر ہونے والے وزٹ ویزوں کے حامل افراد کو ملک چھوڑنے کے لیے دی گئی ایک مہینے کی رعایتی مدت ختم ہونے کے قریب۔
یکم مارچ کے بعد ختم ہونے والے وزٹ ویزوں کے حامل افراد کو بغیر جرمانوں کے ملک چھوڑنے کے لیے 11گست سے ایک مہینےکی مدت دی گئی تھی۔
یہ اعلان 10 اگست کو شہریت اور شناخت کی وفاقی اتھارٹی کی جانب سے کیا گیا تھا۔
اپنے سوشل میڈٰیا اکاؤنٹ پر ICA کی جانب سے لکھا گیا تھا کہ یہ رعایتی مدت یو اے ای جانب سے شروع کیا گئے قومی اقدامات کا حصہ ہے۔
دبئی کے لیے ویزے جاری کرنے والی اتھارٹی GDRFA کی جانب سے بھی ایسا ہی اعلان کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ 11 اگست سے شروع ہونے والی رعایتی مدت بغیر جرمانوں کے ملک چھوڑنے کے لیے دی گئی ہے۔ جو اگلے مہینے ختم ہو جاے گی۔
لہذا 11 سمتبر سے پہلے ملک نہ چھوڑنے کی صورت میں 11 سمتبر کے بعد رہائش اختیار کرنے پر بھاری جرمانے ادا کرنے پڑیں گے۔
ویزا ایکسپائر ہونے کے بعد رہائش اختیار کرنے پر ہونے والے جرمانے درج ذٰیل ہیں:
وزٹ ویزا ختم ہونے کے بعد رہائش اختیار کرنے کے بعد پہلے دن 200 درہم جرمانہ ہوگا اور اسکے بعد ہر دن کا جرمانہ 100 درہم ہوگا۔
اس کے علاوہ 100 درہم سروس فیس ادا کرنی پڑے گی۔
ختم ہوچکے رہائشی ویزوں کے حوالے سے احکامات کیا ہیں؟
ایکسپائر ہو چکے رہائشی ویزوں کے حوالے سے ICA کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ ایسے افراد کو بغیر جرمانوں کے ملک چھوڑںے کے لیے 17 نومبر تک کی مہلت دی گئی ہے۔
ICA میں خارجہ امور اور پورٹس کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل سعید رکان الراشیدی کا کہنا تھا کہ ایسے افراد جن کے رہائشی ویزے یکم مارچ سے پہلے ختم ہوئے ہیں انہیں ملک چھوڑنے کے لیے 17 نومبر تک کے وقت دیا گیا ہے جو 18 اگست سے شروع ہو چکا ہے۔
میجر الراشیدی نے واضح کیا کہ اس اقدام میں داخلے اور رہائش کی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے تمام افراد شامل ہیں، اور ملک چھوڑنے والے افراد پر یو اے ای واپس آںے حوالے سے کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔
یاد رہے کہ کہ ڈیڈ لائن اور مہلت صرف ایکسپائر ویزوں کے حامل افراد کے لیے ہے جو اس وقت یو اے ای میں رہائش پذیر ہیں۔
رعایتی مدت کے حوالے سے کوئی بھی سوال پوچھنے کے لیے آپ ٹال فری نمبر 800453 پر صبح 8 بجے سے رات 10 بجے کے درمیان رابطہ کر سکتے ہیں۔
Source: Gulf News







