شارجہ(خلیج اردو): زندگی کا پہیہ رواں دواں ہو تو انسان کئی کہانیوں اور صورت حال کا سامنا کر لیتا ہے۔ ہم کبھی کسی کی اونچی شان دیکھتے ہیں تو کہیں قدرت کی آزمائش کا سامنا کرنے والے لوگ جو مجبوری کا دوسرا نام ہوتے ہیں۔
شارجہ میں دو بچوں سے ان کی ماں کو بیماری نے چھین لیا اور مجبور باپ جو بیمار تھا اور اپنا علاج کرنے کی مالی سکت نہیں رکھتا تھا اور ایک درد ناک کہانی لیے جیل کی سلاخوں کے پھیچے ہیں۔
ایسی صورت حال کو صرف وہ محسوس کر سکتے ہیں جن پر گزری ہو یا جن کے اپنے ایسی صورت حال سے دوچار ہوئے ہوں۔
ان بے سہارا بچوں کی داد رسی کیلئے شارجہ چیریٹی انٹرنیشنل میدان میں آیا اور ان بچوں کی گزر بسر کیلئے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا۔ تنظیم کے روح رواں اسد آل زرونی نے گلف نیوز کو بتایا کہ انہیں بے سہارا بچوں کے حوالے سے اطلاع دی گئی اور پھر ہم نے مختلف طریقوں سے معلوم کیا کہ بچے کس کرب میں جی رہیں ہیں اور ان کی مدد کیلئے اپنی طرف سے جو ضرورت تھی وہ کیا۔
آل زرونی کے مطابق ان کی تنظیم نے بچوں کے تمام اخراجات اٹھائے اورماہانہ کی تمام ضروریات کا بوجھ اٹھایا اور آج ان میں سے لڑکی سیکنڈڑی اسکول میں ہے جبکہ لڑکے نے اپنی تعلیم مکمل کی ہے اور اچھی جگہ ملازمت کی تلاش میں ہے۔







