متحدہ عرب امارات

نوکری کے متلاشی افراد کو بیوقوف بنانے والا گروہ گرفتار، گروہ کیسے کام کرتا تھا؟ تفصیلات جانیے

خلیج اردو آن لائن:

کورونا وائرس کی وبا دنیا کے لیے ایک عذاب بن کر آئی، لاکھوں لوگ اس کا شکار ہو کر زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ کاروبار متاثر ہوئے ہیں اور ایک کثیر تعداد بے روزگار ہو چکی ہے۔ لیکن اس وبا نے بھی کچھ لوگوں کے اندر رحم دلی پیدا نہیں کی، بلکہ کچھ دھوکا باز افراد کے لیے یہ وبا کمائی کا بہترین موقع بن کر آئی ہے۔

دبئی پولیس نے حال ہی میں ایک ایسے گروہ کو گرفتار کیا ہے جو کورونا وبا کے دنوں میں 150 لوگوں کو نوکری کا دھوکہ دے کر لوٹ چکےہیں۔

اس گروہ نے لوگوں کو اپنے چنگل میں پھنسانے کے لیے نوکریوں میں بھرتی کی ایک جعلی کمپنی دبئی میں بنائی اور نوکری دینے کے فراڈ میں نوکری تلاش کرنے والے افراد سے 1 ہزار درہم سے 3ہزار درہم تک کی فیسیں اینٹھیں۔

محکمہ فوجداری تحقیقات کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جمال سالم الجالف نے بتایا کہ انہوں نے بتایا کہ اس گروہ نے کورونا کی وبائی  صورتحال کا فائدہ اٹھایا کیونکہ اس دوران بہت سے لوگ نوکریوں کی تلاش میں تھے۔

جمال سالم کا کہنا تھا کہ” (یہ گروہ) دبئی میں اچھی تنخواہوں کی ملازمت کے ساتھ متاثرہ لوگوں کو بیوقوف بنا رہے تھے۔ وہ متاثرہ افراد سے نوکری حاصل کرنے کے لیے فیس بھرنے کا کہتے تھا۔ اور اس طریقے سے انہوں نے 150 لوگوں کے ساتھ دھوکہ کیا اور غیر قانونی طور پر ایک بڑی رقم حاصل کی”۔

یہ گروہ آن لائن کام کرتا تھا اور سماجی ربطوں کی ویب سائٹس کا استعمال کرتا تھا۔

دبئی پولیس میں انسداد اقتصادی جرائم ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کرنل صالح بو اوسائبہ کا کہنا تھا کہ ایک ایشیائی باشندے کا بارے میں نوکریاں دینے کی غیر قانونی چلانے کی اطلاع ملنے کے بعد اس گروہ کو گرفتار کیا گیا۔

کرنل صالح نے بیان میں کہا کہ ” وہ شخص وہ نوکریوں کے مواقعوں سے متعلق آن لائن پوسٹ کرتا تھا۔ اور ان نوکریوں کے لیے کوئی تعلیم نہیں چاہیے ہوتی تھی۔ اور (نوکری میں اپلائی کے) پراسیس کو مکمل کرنے کے لیے وہ نوکری حاصل کرنے کے خواہشمند افراد سے 1 ہزار سے 2 ہزار کے قریب فیس لیتا تھا "۔

گروہ کیسے پکڑا گیا؟

نوکری حاصل کرنے کے خواہشمند ایک شخص نے پولیس کو اس غیر قانونی کمپنی کے بارے میں اس وقت اطلاع دی جب اس سے نوکری اپلائی کرنے کے لیے 3 ہزار درہم فیس مانگی گئی۔

دبئی پولیس میں فراڈ سیکشن کے ڈائریکٹر کیپٹن احمد الساماہی  نے بتایا کہ پبلک پراسیکیوشن سے گرفتاری کے وارنٹ حاصل کرنے بعد کمپنی کی شناخت کی گئی اور چھاپہ مارا گیا۔

کیپٹن احمد نے بتایا کہ” پولیس اہلکاروں نے وزارت ہیومن ریسورس کے ساتھ مل کر کمپنی پر چھاپہ مارا اور مشتبہ افراد کو 150 متاثرہ افراد کی فہرست کے ساتھ گرفتار کر لیا”۔

انکا مزید کہنا تھا کہ یہ گروہ ملک چھوڑنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ افراد کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔

تاہم پولیس نے یہ نہیں بتایا کہ چھاپے کے دوران کتنے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

برگیڈیئر الجالف نے لوگوں کو ایسے گروہوں کا شکار ہونے سے بچنے کے لیے تنبیہ کی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ” ایسے دھوکہ باز بھاری تنخواہوں کے وعدے کے ساتھ نوکریوں کے اشتہارات سوشل میڈٰیا پر پوسٹ کرتے ہیں۔ اور بھروسہ مند کمپنی کبھی بھی نوکری کے لیے اپلائی کرنے کی فیس نہیں مانگتی۔ اس لیے لوگوں اپلائی کرنے سے پہلے بھرتیاں کرنے والی کمپنی کی تفصیلات جان لینی چاہیئے”۔

Source: Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button