خلیج اردوآن لائن: دبئی کی ابتدائی عدالت نے 21 سالہ نوجوان پر ایک شخص کو مساج کے بہانے فلیٹ پر بلانے اور پھر اس کا قیمتی سامان لوٹ لینے کا الزام عائد کردیا۔
پراسیکیوشن کے ریکارڈ کے مطابق یہ مقدمہ 4 جون کا ہے۔ جس میں ایک 21 سالہ افریقی پر الزام ہے کہ اس نے ایک عرب کو مساج کے بہانے ایک فلیٹ بلایا اور پھر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر متاثرہ شخص سے 500 درہم سمیت اس کا کریڈٹ کارڈ لوٹ لیا۔
مدعالیہ اور اس کے ساتھیوں نے (جو کے فرار ہیں) متاثرہ شخص سے زبردستی اس کے کریڈٹ کارڈ کا پن کوڈ لیا اور بعد ازاں اس میں سے 40 ہزار درہم چرا لیے۔
یہ مقدمہ البرشا پولیس تھانے میں درج کروایا گیا تھا۔
درخواست کنندہ نے بتایا کہ واقعہ کے دن اسے مساج کی ضرورت تھی کیونکہ اس کی کمر میں درد تھا۔ اس نے مزید بتایا کہ”میں نے ایک ویب سائٹ سے حاصل کردہ نمبر پر فون کیا تو مجھے پام جمیرہ کا ایک پتہ بتایا گیا”۔
تفشیش کے دوران مدعی نے بتایا کہ وہ اس پتے پر پہنچا اور "میں جب اس فلیٹ میں داخل ہوا تو میں نے اس خاتون کے متعلق پوچھا جس نے مجھے مساج کرنا تھا۔ تو میں چار آدمیوں کو دیکھ کر حیران رہ گیا، جو میرے پاس آئے اور میرا موبائل فون مانگا۔ مجھے کئی بار تھپڑ مارنے کے بعد میں نے انہیں موبائل دے دیا”۔
متاثرہ شخص نے مزید بتایا کہ وہ اپنا پرس انہیں نہیں دینا چاہتا تھا”لیکن چار خواتین آئیں اور انہوں نے میرے جوتے اتار دیے۔ میں نے انہیں اپنا پرس دے دیا جس میں سے انہیں 500 درہم اور میرا کریڈٹ کارڈ ملا۔ اس کے بعد وہ مجھے ایک کمرے میں لے گئے اور مجھے دھمکایا کہ اگر میں نے کارڈ کے پن کوڈ نہ دیے تو میرے لیے برا ہوگا۔ میں بہت ڈرا ہوا تھا اس لیے میں دو کارڈوں کے پن کوڈ بتا دیے”۔
درخواست کنندہ کو وہاں دو گھنٹے تک رکھا گیا اور اس پر تشدد کیا گیا۔ اس کے بعد اسے بتایا گیا کہ اس کو اب کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اور اسے اس کا پرس، کارڈ اور موبائل واپس کر دیا۔
اس نے شخص نے پراسیکیوٹر کو بتایا کہ "اس کے پانچ منٹ بعد اسے چھوڑ دیا گیا”۔
مزیدبرآں، پولیس سارجنٹ نے بتایا کہ ہمارے پاس اس طرح کی کئی اور شکایات بھی درج ہوئی تھیں۔ اور "ہماری معلومات کے مطابق ایک گروہ فلیٹ کرائے پر لیتا ہے اور پھر مختلف افراد کو دھوکے سے بلا کر انہیں لوٹ لیتے ہیں”۔
سارجنٹ نے مذکورہ ملزم کی گرفتاری سے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا کہ الرافع پولیس تھانے میں کچھ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ جس کے بعد مذکورہ شکایت کنندہ کو بلایا گیا۔ "تو اس نے ان مشتبہ افراد میں سے مدعاعلیہ کو پہچان لیا”۔
تاہم مقدمے کا فیصلہ 19 اکتوبر کو سنایا جائے گا۔
Source: Khaleej Times







