خلیج اردو آن لائن:
آج کل ماہرہین لوگوں کو نزلہ زکام کی ویکیسن لگوانے کی تلقین کیوں کر رہے ہیں؟ آج اس مضمون میں ماہرین کی رائے کے ساتھ اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
دبئی ہیلتھ اتھارٹی کی تحقیق کے مطابق دبئی میں اکتوبر کے مہینے سے زکام کے کیسز میں اضافہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ان دنوں جب کورونا وائرس پھیلا ہوا ہے اور اکتوبر کا مہینہ بھی کچھ ہفتوں کی دوری پر ہے تو ماہرین عوام سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ کم از کم نزلہ زکام کی ویکسین کی ایک خوراک ضرور لگوائیں۔
نیو یارک یونیورسٹی ابوظہبی میں پبلک ہیلتھ ریسرچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈاکٹر عبد الشکور عبدل کا کہنا ہے”چونکہ کورونا وائرس اور موسمی زکام ایک ہی علامات رکھتے ہیں لہذا اس لیے اس سال زکام کی ویکسین کروانا نہایت ضروری ہے”۔
ایک اور ماہر صحت ڈاکٹر ہیبا ممدوح کا کہنا تھا کہ ” (کورونا اور زکام) کے درمیان فرق تلاش کرنے کے لیے ٹیسٹ کی ضرورت پڑے گی۔ جبکہ ہمارے پاس زکام کی ویکسین پہلے سے ہی موجود ہے لہذا اس ویکسین کو لگوانا بہتر ہوگا”۔
آپ کو زکام کی ویکسین کب لگوانی چاہیے؟
ڈاکٹر ممدوح زکام کی ویکسین کو لگوانے کے وقت کے حوالے سے کہنا تھا کہ ویکسین زکام کے موسم کی شروعات میں یعنی ستمبر کے مہینے کے اختتام پر لگوانی چاہیے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ”ویکسین لگوانے کے بعد تقریبا دو ہفتوں کے بعد جسم کے اندر زکام کے خلاف مدافعتی نظام ہیدا ہوتا ہے”۔
تاہم ڈاکٹر ہیبہ نے ضرور دیتے ہوئے کہا کہ زکام کی ویکسین آپ کو کورونا سے نہیں بچائے گی لہذا کورونا کے خلاف احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا۔
زکام کی ویکسین کسے لگوانی چاہیے؟
دبئی ہیلتھ اتھارٹی میں ریسرچ اینڈ اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر یحییٰ حسین کا کہنا تھا کہ ہر ایک کو زکام کی ویکسین لگوانی چاہیے۔ خاص طور پر میڈٰیکل ورکرز اور سکول اسٹاف اور ایسے تمام افراد جن کی قوت مدافعت کم ہے انہیں زکام کی ویکسین لگوانی چاہیے۔
ڈاکٹر یحییٰ کا کہنا تھا کہ” ہم تجویز کرتے ہیں کہ ایسے افراد کو موذی مرض جیسا شوگر، حاملہ خواتین، کم قوت مدافعت کے حامل افراد، اور خاص طور پر 5 سال سے کم عمر بچوں کو کورونا ویکسین لگوانی چاہیے”۔
اس ویکسین کے فوائد کیا ہیں؟
ڈاکٹر یحییٰ کا زکام کی ویکسین کے فوائد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ "زکام کی ویکسین اگر آپ کو زکام ہونے سے نہیں بھی بچاتی تو یہ پھر بھی یہ ویکسین آپ کی شدت کو کم کر سکتی ہے”۔
انکا مزید کہنا تھا کہ ” بیشتر اوقات یہ ویکسین مریضوں کو زکام کی شدید ترین قسم سے بچاتی ہے، جس سے آپ ہسپتال میں داخل ہونے کا خدشہ ہوتا ہے”۔
زکام کی بیماری کے بہت زیادہ پھیلاؤ کی وجوہات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ زکام کی ویکسین بہت کم لوگ لگواتے ہیں اور یہی اس بیماری کے پھیلاؤ کی سب سے بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔
انکا کہنا تھا کہ ایک وجہ لوگوں میں بیماری سے متعلق آگاہی کا نہ ہونا اور ویکسین کے فوائد سے آگاہ نہ ہونا بھی ہے۔
ڈاکٹر یحییٰ کا کہنا تھا کہ” اس بات ک احساس ہونا ضروری ہے کہ ویکسین صرف آپ اپنے لیے نہیں لگواتے بلکہ یہ وائرس دوسرے لوگوں تک پھیلنے سے بھی روکتی ہے۔ کیونکہ جتنے زیادہ لوگوں نے ویکسین لگوائی ہوگی مجموعی طور پر کسیز میں اتنی ہی کمی ہوگی۔
لہذا ہمیں اپنی، اپنے گھر والوں اور اپنی معاشرے کی بہتری سے متعلق سوچنا چاہیے”۔
Source: Khaleej Times







