خلیج اردو
30 ستمبر 2020
دبئی: دبئی میں اپلنٹ کورٹ نے ڈاکٹروں کی غفلت کی وجہ سے خاتون کی معذوری سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ فیصلے میں ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ملزمان کو ایک ایک سال قید کی سزا سنائی ہے جبکہ انہیں جرمانہ بھی اداکرنا ہوگا۔
ڈاکٹروں نے 25 سالہ عرب خاتون راودھا عبداللہ آل معائینی کی ناک کا علاج کیا تھا جس دوران غفلت کی وجہ سے وہ مستقل معذوری کا شکار ہوئی۔ ماتحت عدالت نے 3 ملزمان کو ایک ایک سال جیل اور 51 ہزار درہم جرمانہ کی سزا سنائی تھی جو اپلنٹ کورٹ نے برقرار رکھی۔
تین ملزمان میں 59 سالہ اے این ٹی اسپشلسٹ ، 65 سالہ ماہر انستیزیا اور 69 سالہ میڈیکل ٹیکنیشن شامل ہیں۔ سرجن کا تعلق دومنیکن ریپبلک جبہ باقی دونوں افراد کا تعلق شام سے ہے۔
20 نومبر 2019 کے حتمی میڈیکل رپورٹ میں باتیا گیا تھا کہ آپریشن کے دوران ٹیم نے غفلت کا مظاہرہ کیا جس سے خاتون مستقل معذوری کا شکار ہوئی۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ 25 سالہ عرب خاتون جو ماسٹر ڈگری کیلئے پہلے سال میں زیر تعلیم تھی ، نے دبئی کسمٹک سرجری سنٹر میں جاکر ناک کی چیک اپ کروائی کیونکہ انہیں سانس لینے میں مشکلات کا سامنا تھا۔
ای این ٹی اسپیشلسٹ نے خاتون کو بتایا کہ وہ سپٹوٹلسٹی کا شکار ہے اور اس کیلئے سرجری کرائی جائے گی۔ استعڈاثہ کے مطابق ان کا اسپتال متعلقہ سرجری کرانے کیلئے درکار الات کا حامل نہیں تھا۔ رپورٹ کے مطابق خاتون کو 7 منٹ تک آکسیجن سلنڈر سے دور رکھا گیا جس کے نتیجے میں کوما میں چلی گئی اور مستقل معذوری کا باعث بنی۔
متائثرہ خاتون کے خاندانی وکیل عیسیٰ بن حیدر نے گلف نیوز کو بتایا کہ وقوع کے بعد وہ رودہ کے خاندان سے ملی اور انہیں کیس فائل کرنے پر امادہ کیا جس کے بعد تحیقات میں معلوم ہوا کہ ڈاکٹروں نے غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔
عدالت نے عارضی طور پر 51 ہزار درہم جرمانہ کی ادائگی کا حکم دیا ہے تاہم سول عدالت میں ہرجانے کی رقم کا بعد میں دونون فریقین کے درمیان حتمی فیصلہ ہوگا۔
Source : Gulf News






