خلیج اردو آن لائن:
دبئی کے ایک غیر ملکی ڈرائیور کو تین سالہ بچے کے ساتھ نازیبا حرکت کرنے کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنا دئی گئی۔
واقعہ کب اور کیسے پیش آیا:
تفصیلات کے مطابق متاثرہ بچے کی ماں نے دبئی پبلک پراسیکیوشن کو بتایا کہ 57 سالہ سری لنکن مدعاعلیہ اس کی خادمہ کا شوہر ہے۔ اور اس کے بیٹے اور دیگر بچوں کو سکول چھوڑنے کی ذمہ داری سر انجام دیتا تھا۔
اس سال جولائی کے مہینے میں اسے دوسرے بچوں کی ماؤں کی طرف سے بتایا گیا کہ ڈرائیور بچوں کو نامناسب طریقے سے چھوتا ہے اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا رہا ہے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق یک افسر نے بتایا کہ پولیس کے پاس شکایت درج کرواتے ہوئے بچے کی ماں رو رہی تھی اور چلا رہی تھی۔ ” وہ اپنے بیٹے سے مسلسل مدعاعلیہ کے بارے میں بات کرتی رہی تاکہ جان سکے اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ اور جب اس کے بیٹے نے معصومیت سے بتایا کہ مدعاعلیہ نے صوفے پر اس کے ساتھ کیا کیا ہے تو وہ ششدر رہ گئی”۔
استغاثہ کے مطابق متاثرہ بچے نے اپنی ماں کو بتایا کہ وہ اپنے گھر سے، صوفے سےاور مدعا علیہ سے نفرت کرتا ہے۔
خیال رہے کہ مدعاعلیہ پہلے بھی جنسی زیادتی کے کیسز میں ملوث رہا ہے، جولائی میں مدعاعلیہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا، تاہم مقدمے کا فیصلہ 30 ستمبر کو سنایا جانا تھا۔
نجی خبررساں ادارے گلف نیوز کے مطابق گرفتار ڈرائیور کو پانچ سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق اس کیس میں دبئی پراسیکیوشن نے ملزم کا کریمنل ریکارڈ ہونے کی وجہ سے عدالت سے ملزم کو سخت سزا دینے کی استدعا کی تھی۔
دبئی کی ابتدائی عدالت نے مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے مدعاعلیہ کو پانچ سال قید کی سزا سنا دی ہے اور ساتھ حکم دیا ہے سزا ختم ہونے کے بعد مدعاعلیہ کو ملک بدر کردیا جائے۔
Source: Gulf News







