
خلیج اردو
06 اکتوبر 2020
ابوظبہی: ابوظبہی میں خاتون کو ناجائیز طریقے سے نوکری سے نکالنے پر بنک کو جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ خاتون کو 153 ہزار دیئے جائیں گے جس میں ان کے غیر ادا شدہ تنخواہیں اور سروس ختم کرنے کے مراعات شامل ہیں۔
عدالت فیصلے کے دستاویزات کے مطابق درخواست گزار خاتون نے بنک کے خلاف لاسوٹ دائر کیا تھا جس نے اس کی ملازمت غیرقانونی طور پر ختم کی تھی۔ بنک نے کوئی مناسب وجہ بتائے بغیر اسے نوکری سے نکال تھا۔
عرب خاتون کے مطابق انہوں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا اور بنک نے اسے کسی قسم کی وجہ بتائے بغیر اسے نوکری سے نکالا اور وضاحت کا موقع تک نہیں دیتا۔
خاتون کے مطابق انہون نے بنک کے ساتھ 8 سال تک کام کیا اور وہ ماہانہ 34000 تنخواہ لیتی رہی۔ انہون نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ 3 مہینوں کی غیر ادا شدہ تنخواہ ، ملازمت ختم ہونے کے مراعات اور نامناسب طریقے سے ملازمت سے نکالنے کے بدلے ہرجانہ ادا کیا جائے۔
بنک کے عہدایدارن کا موقف تھا کہ خاتون کو خراب کارکردگی پر نکالا گیا۔ انہوں نے کمپنی کے رولز کی خلاف ورزی کی۔ بنک کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے کے باجود وہ کام سے غیر حاضر رہی۔ ہم نے اس کی سروسز ختم کرنے سے قبل اسے ایک مہینے کا نوٹس جاری کیا تھا۔
عدالت نے کمپنی کا موقف مسترد کرتے ہوئے بنک کو ہدایت کی کہ وہ خاتون کو 153 ہزار درہم ادا کریں۔ بنک نے فیصلہ اپلنٹ عدالت میں چیلنج کیا جس نے لیبر کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
Source : Khaleej Times







