خلیج اردو آن لائن:
راس الخیمہ کی کریمنل کورٹ نے ساتھ ورکر کو قتل کرنے کی کوشش کرنے والے ایشیائی باشندے کو 10 سال قید کی سزا سنا دی۔
مزید برآں، عدالت کی جانب سے حکم دیا گیا ہے کہ قید کی سزا پوری کرنے کے بعد ملزم کو ملک بدر کر دیا جائے۔
عدالتی ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے متاثرہ شخص اور مدعاعلیہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے تھے۔ دونوں کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا، جس کے بعد مدعاعلیہ نے سوتے ہوئے متاثرہ شخص پر گوشت کاٹنے والے چھرے سے حملہ کر دیا۔
اس حملے کے نتیجے میں متاثرہ شخص سر اور کندے میں مستقل معزوری کا شکار ہوا اور اس بہت زیادہ خون بہ گیا ہے۔ جس کے بعد اسے ہسپتال لیجایا گیا۔
تاہم، پولیس کو واقعہ اطلاع ملنے کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتاری کے بعد دبئی پبلک پراسیکیوشن نے ملزم پر اقدام قتل اور متاثرہ شخص کو گالیاں دینے کا الزام عائد کر دیا۔
تاہم، ملزم نے تمام الزامات کو ماننے سے انکار کردیا اور استغاثہ کو بتایا کہ وہ متاثرہ شخص کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ بلکہ وہ متاثرہ شخص کو ڈرانا چاہتا تھا۔
مدعاعلیہ کے وکیل نے عدالت سے استدعا کہ کی اس کے موکل کو ثبوتوں کی عدم دستیابی کی بنیاد پر تمام الزامات سے بری قرار دیا جائے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ” میرے موکل نے عدالت، پراسیکیوشن اور پولیس کے سامنے اپنے اوپر لگے الزامات سے انکار کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ صرف جھگڑے کی وجہ سے متاثرہ شخص کو ڈرانا چاہتا تھا”۔
لیکن عدالت مدعاعلیہ کو 10 سال قید اور اس کے بعد ملک بدری کی سزا سنا دی ہے۔
Source: Khaleej Times







