خلیج اردو
11 اکتوبر 2020
دبئی: کسی بھی قوم میں مشکلوں سے لڑنے اور پریشانیوں کا مقابلے کرنے کی اجتماعی ہمت ہی وہ پیمانہ ہے جو قوموں کو عظمت ماپنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ قدرت آفات ہو یا کوئی بھی ہنگامی حالت یا کوئی بھی میدان جب ایک قومی اپنا حوصلہ نہیں ہارتے تو جیت اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
پرعزم اور مستقل مزاج رہنے اور مشکلات کا خندہ پیشانی سے مقابلا کرنے کیلئے متحدہ عرب امارات مشہور ہے۔ عالمی معاشی بحران سے لے کر کورونا کی وباء تک جب جب قوم پر آزمائش کی گھڑی آئی ہے، ہر شہری اور ہر ادارہ ڈٹ گیا اور فتح اپنے نام کی۔
کورونا نے امارات کے بنیادی سیکٹرز جیسے رئیل اسٹیٹ ، ایوی ایشن ، مہمان نوازی ، سیاحت سمیت اہم شعبوں کو متائثر کیا ہے۔ تاہم خلیجی ممالک میں امارات کو ایک مقام حاصل ہے کہ انہوں نے بہترین حکمت عملی اور بروقت اقدامات سے کافی مسائل پر قابو پانا شروع کیا ہے اور بہت سے شعبوں میں معمولات زندگی بحال ہورہی ہیں۔
فراسٹ اینڈ سُلیوان میں منیجنگ پارٹنر سرونت سنگھ کا کہنا ہے کہ گلف کوآپریشن کونسل کے دیگر ممبر ممالک کے مقابلے میں متحدہ عرب امارات کی مستقبل کیلئے پالیسیاں نئے ادوار کا آغاز کرے گی اور مختلف پہلوؤں میں مواقع کو وسعت دے گی۔
ان کا کہنا کہ جی سی سی کے مستقبل کے اہداف میں تیل پر انحصار کیے بغیر اکانومی کو بلندی پر پہنچانا شامل ہے جس کیلئے اگلے دہائی تک کا وقت ہے۔
مسٹر سنگھ کا کہنا ہے کہ باقی دنیا کے برعکس امارات نے نہ صرف کم انصانوں کو کوھیا بلکہ معاشی میدان میں بھی بڑے پیمانے پر نقصانات نہیں ہونے دیئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہوٹلنگ کا شعبہ جہاں متائثر ہوا وہاں دیگر سیکٹرز میں ترقی دیکھنے میں آئی۔ جیسے حالات بہتر ہورہے ہیں ہم صورت حال کو بہتر بنانے کی طرف جارہے ہیں۔ اس سال کے اختتام پر ہم نہ صرف مختلف چیلنجز سے نمٹ چکے ہوں گے بلکہ مختلف مواقع کا فائدہ بھی اٹھایا ہوگا۔
Source : Khaleej Times







