متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سرمایہ کاری کے تحفظ پر مذاکرات

خلیج اردو -متحدہ عرب امارات۔اسرائیل معاہدے کے تحت سرمایہ کاری کے تحفظ اور حوصلہ افزائی کے کیلئے بات چیت کا پہلا تین روزہ ورچول دور 12 سے 14 اکتوبر تک ہوا۔ متحدہ عرب امارات کے وفد کی سربراہی وزارت خزانہ کے انڈر سیکریٹری یونس حاجی الخوری نے کی۔ یہ مذاکرات وزارت خزانہ کی اس حکمت عملی کے تحت کیئے جارہے ہیں جس کا مقصد متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے تاریخی امن معاہدے کے بعد معاشی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔

یونس حاجی الخوری نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے سرمایہ کاریوں کے تحفظ اور حوصلہ افزائی کے لئے معاہدوں پر دستخط کرنے میں اہم پیشرفت کی ہے جن میں آج تک 99 معاہدوں کے ساتھ پوری دنیا کے متحدہ عرب امارات کے بیشتر اسٹریٹجک شراکت دار شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات پہلا عرب ملک ہے جس نے اسرائیل کے ساتھ سرمایہ کاری کے تحفظ اور حوصلہ افزائی کے معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین دوہرے ٹیکسوں سے بچنے کے معاہدے پر بات چیت جلد شروع کرنے کا ابتدائی معاہدہ ہے۔

یونس حاجی الخوری نے کہا کہ وزارت خزانہ سرمایہ کاری کے تحفظ اور حوصلہ افزائی کے لئے دہرے ٹیکسوں سے بچنے کے معاہدوں پر دستخط کرکے اپنے بین الاقوامی تعلقات کے نیٹ ورک کو بڑھانے کاخواہاں ہے۔ اس سے متحدہ عرب امارات کے مختلف اسٹریٹجک شراکت داروں کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے تجارتی اور معاشی تعلقات کو تقویت ملے گی۔

سرمایہ کاریوں کی حفاظت اور حوصلہ افزائی کا معاہدہ سرمایہ کاری کو غیر تجارتی خطرات جیسے قومیائے جانے، عدالتی ضبطگی اور اثاثوں کے انجماد سے محفوظ رکھنے کے ساتھ لائسنس شدہ سرمایہ کاری کے قیام اور دیگر کرنسیوں میں منافع اور محصولات کی منتقلی جیسے کاموں میں مفید ہوتا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تاریخی امن معاہدے پر دستخط کے بعد سے دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے مختلف اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مستحکم کرنے کے لئے بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button