متحدہ عرب امارات

قیدی بھی انسان ہیں ، متحدہ عرب امارات میں قیدیوں کیلئے بہترین پروگرامز جو قابل تحسین ہیں

خلیج اردو
18 اکتوبر 2020
شارجہ: شارجہ میں جیلوں کی بہتری کیلئے بحالی مراکز سرگرم ہیں اور قیدیوں کی زندگیوں کو بدلنے کیلئے مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اپنے زندگی کا ایک اہم حصہ جیلوں میں گزارنے والے ان کی قیدیوں کیلئے بحالی مراکز کسی غنیمت سے کم نہیں۔

اپنے شراکت داروں کے ساتھ ملکر بحالی مراکز جیلوں میں قید مجرموں یا ملزموں کی زندگی میں بہتری کیلئے کوشاں ہیں۔ اس مقصد کیلئے لاکھوں درہم کا چندہ اکھٹا کیا گیا ہے۔ وہ مجرم جو سزا پوری کرتے ہیں ان کی نفسیاتی کونسلنگ کیلئے بالی مراکز میں ان کا علاج کیا جاتا ہے۔

شارجہ پینیٹیو اینڈ ریہبلٹیشن اسٹبلشمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل برگیڈیئر احمد عبدالعزیز سہیل نے گلف نیوز کو بریفنگ میں بتایا کہ کیسے شارجہ کی حکومت قیدیوں اور ان کے خاندانوں کا خیال رکھتی ہے۔ جس کیلئے شارجہ پولیس اور اس کے اتحادیوں نے میمورینڈم پر دستخب کیے ہیں۔

برگیڈیئر سہیل کا کہنا ہے کہ جرائم سے متعلق ایک خصوصی کمیٹی بنائی گئی ہے جو ایسے کیسز کو دیکھتی ہے جس میں سزائے موت کے مجرموں اور ان کے خاندان کو مصیبت سے بچانے کیلئے دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کیے جاتے ہیں اور خون بہا کے پیسے ادا کیے جاتے ہیں۔ یہ کمیٹی متائثرہ خاندانوں سے رابطے کرکے انہیں اس بات پر آمادگی کی کوشش کرتی ہے کہ دونوں فریقین آپسمیں معاملہ طے کریں تاکہ سزائے موت کے قیدی کی زندگی بچائی جا سکے۔

بحالی مرکز نے 4 ملین درہم خون بہا کے طور پر ادا کرکے 4 مجرموں کی جان بچائی ہے۔ خون بہا کے پیسوں کا انتظام مختلف جگہوں سے کیا جاتا ہے جس کے لیے مخیر حضرات سے رابطہ کیا جاتا ہے۔

مختلف قیدیوں کے جرمانے بھی بحالی مراکز سے ادا کیلئے جاتے ہیں۔ اس مد میں 351328 درہم واجب الادا جرمانوں کو حکام کے ساتھ مذاکرات کرکے 115000 تک کم کیا گیا اور قیدیوں کی جگہ بحالی مراکز نے یہ رقم ادا کی۔

قیدیوں کو مختلف کورسز بھی کرائے جاتے ہیں جس میں وہ فارمنگ اور دیگر شعبوں میں صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہیں ۔ مختلف قیدی رضاکارانہ طور پر پودے اگانے اور گارڈننگ کے دیگر امور سرانجام دیتے ہیں۔ 60 قیدیوں نے فارمنگ کلاسز میں داخلہ لیا ہے اور یہاں انہیں مختلف کورسز کرائے جاتے ہیں۔

5 قیدیوں نے ٹریول اینڈ ٹورزم میں اس سال ڈپلومہ حاصل کیا۔ یہ ڈپلومہ سکائی لائن کالج یونیورسٹی نے جاری کیا ہے اور اس سال کے بیچ میں 20 قیدیوں کا اندراج کیا گیا ہے۔

Source : Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button