متحدہ عرب امارات

دُبئی میں بھارتی شہری کی شرمناک حرکت،اپنے ملک کی ناک کٹوا دی

دُبئی میں 28 لاکھ سے زائد بھارتی مقیم ہیں تاہم آئے روز ان کے کسی نہ کسی چوری، ڈکیتی یا جنسی ہراسگی کے معاملے میں ملوث ہونے کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ جس سے بھارتی کمیونٹی کو بہت زیادہ شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسا ہی ایک اور معاملہ دُبئی میں پیش آیا ہے جہاں سرکاری محکمہ صحت کے ایک ملازم نے ڈاکٹروں اور نرسز کی کورونا سے حفاظت کے لیے رکھے گئے خصوصی لباس چوری کرلئے۔

تاہم وہ 20 ہزار درہم کا یہ طبی سامان فروخت کرنے کے دوران پکڑا گیا۔ دُبئی پولیس کے مطابق 28 سالہ بھارتی شخص دُبئی ہیلتھ اتھارٹی کے ایک گودام میں اسسٹنٹ سٹور کیپر تعینات تھا۔ اس گودام میں PPE (Personal Protective Equipment) کا سامان تھا۔ ملزم کے پاس بھی گودام کی ایک چابی تھی۔
گودام میں موجود طبی سامان کا سارا ریکارڈ اور اندراج بھی اسی کی ذمے داری تھی۔

تاہم اس نے اپنی نوکری کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے 20 ہزار 900 درہم مالیت کا سامان چُرا لیا۔تاہم ملزم کی جانب سے یہ سامان فروخت ہونے کی مخبری ہونے پر اسے پولیس نے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا اور اس کے خلاف الرشیدیہ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایک میڈیکل فرم کی فلپائنی بزنس پارٹنر نے وہ دُبئی ہیلتھ اتھارٹی کے ایک گودام میں سپلائی دینے کی خاطر تھی تو ملزم نے اسے اپنا نمبر دیا اور بعد میں رابطہ کر کے کہا کہ اس کے پاس 12 سو PPE ہیں جنہیں وہ بہت کم قیمت پر فروخت کر دے گا ، DHA کے سسٹم میں رسائی ہو نے کے باعث وہ یہ کام بہت آسانی سے کرسکتا ہے۔

خاتون نے بھارتی ملازم کے انچارج سے رابطہ کر کے ملزم کی بے ایمانی سے آگاہ کیا۔ جس کے بعد فیصلہ ہوا کہ اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا جائے۔ خاتون نے جھوٹ موٹ کی ہامی بھرکر ملزم سے کہا کہ وہ سامان لے آئے۔جونہی ملزم وہاں پہنچا تو تو اسے پولیس اور DHA کے عملے نے چوری شدہ سامان سمیت رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ اس مقدمے کی اگلی سماعت 25نومبر 2020ء کو ہو گی۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button