خلیج اردو آن لائن:
راس الخیمہ امارات کی کی سول کورٹ نے ایک ڈرائیور اور اسکی انشورنس کمپنی کو حکم دیا کہ وہ حادثے زخمی ہونے والے شخص کو 1 لاکھ 10 ہزار درہم زخمی شخص کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے طور پر ادا کریں۔
کار ڈرائیور پر الزام تھا کہ اس نے گاڑی پیدل چلنے والے شخص پر چڑھا دی تھی، جس سے پیدل چلنے والا شخص شدید زخمی ہوگیا تھا۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق کار ڈرائیور اپنی گاڑی 115 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر چلا رہا تھا جبکہ اس سڑک کی حد رفتار 80 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی۔
عدالت نے تصدیق کی کہ” کار ڈرائیور اس تیز رفتاری سے آ رہا تھا کہ اس نے زیبرا کراسنگ سے سڑک پار کرنے والے شخص کو دیکھا تک نہیں اور نہ ہی اپنی رفتار کم کی اور گاڑی متاثرہ شخص کے اوپر چڑھا دی”۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق متاثرہ شخص کو اس حادثے میں برین ہیمرج ہوا، پردہ شکم، ہڈیوں، اور سر کی بائیں جانب شدید زخم آئے۔
اور ان چوٹوں کے نتیجے میں متاثرہ شخص اب بطور ٹرک ڈرائیور اپنی نوکری دوبارہ شروع نہیں کر سکتا۔
مزید برآں، حادثے میں آںے والی چوٹوں کے علاوہ متاثرہ شخص تاؤزن نہیں رکھ پاتا، مستقبل تکلیف میں رہتا ہے اور نفسیاتی مسائل سے گزر رہا ہے۔
تاہم۔ مدعاعلیہ نے دعویٰ کیا کہ متاثرہ شخص زیبرا کراسنگ کی بجائے لاپرواہی سڑک پار کر رہا تھا اور اس نے اس کی گاڑی کے سامنے اچانک سڑک پار کرنے کی کوشش کی۔
لیکن سول کورٹ نے مدعاعلیہ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ٹریفک کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ فیصلہ سنایا کہ متاثرہ شخص ایک ایسے حادثے میں زخمی ہوا جس میں کار ڈرائیور حد رفتار سے زیادہ تیز گاڑی چلا رہا تھا۔
لہذا کورٹ نے کار ڈرائیور اور اسکی انشورنس کمپنی کو متاثرہ شخص کو 1 لاکھ 10 ہزار درہم معاؤضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
Source: Khaleej Times






