خلیج اردو آن لائن:
متحدہ عرب امارات میں 306 ملین درہم منی لانڈرنگ کے ایک بڑ ے مقدمے میں 9 افراد اور 9 کمپنیوں کو قصوار قرار دیتے ہوئے عدالت نے بھاری جرمانوں اور جیل کی سزا سنا دی ہے۔
ابوظہبی کی عدالت نے منگل کے روز 9 مجرمان پر فی کس 5 ملین درہم جرمانہ عائد کیا اور جبکہ ہر کمپنی 50 ملین درہم ادا کرے گی۔
اور مجرمان کو 7 سے 10 سال تک قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
مجرمان کا تعلق امارات، برطانیہ، فرانس، نیدرلینڈ، اور بھارت سے ہے۔ اور ان پر الزام تھا کہ انہوں نے مختلف بینک ٹرانزیکشنز کے ذریعے حاصل ہونے والی غیر قانونی رقم کے ذرائع چھپانے کی کوشش کی تھی۔
ملزمان کو کیسے گرفتار کیا گیا؟
اس مقدمے سے منسلک سراکاری اہلکاروں کا کہنا ہےکہ ملزمان کی گرفتاری اور ٹرائل "فنانشل ٹرانزیکشنز کی مکمل تفتیش اور ٹیکنگ” کے بعد عمل آئی ہے۔
اور یہ مقدمہ منی لانڈرنگ روکنے کے لیے یو اے ای کی کوششوں کا حصہ ہے۔
منی لانڈرنگ کا پتہ کیسے چلا؟
عدالتی ریکارڈ کے مطابق یو اے ای کے سنٹرل بینک کو دو کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹوں میں مشتبہ ٹرانزیکشنز کو شبہ ہوا۔ ان کمپنیوں کی ٹرانزیکشنوں میں اضافہ ہوگیا تھا جو ان کمپنیوں کی کاروباری سرگرمیوں کے مطابق نہیں تھا، یعنی ان سے زیادہ تھا۔
تفتیش کیسے کی گئی؟
ابوظہبی پبلک پراسیکیوشن کی کیجانب سے کی گئی تفتیش کے مطابق پہلے مدعاعلیہ نے آئل کی ٹریڈنگ میں اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کو چھپانے کی کوشش۔ وہ بغیر مجاز ادارے سے کوئی بھی لائسنس حاصل کیے بغیر کام کر رہا تھا۔
اس نے منی لانڈرنگ کے لیے متعدد ذرائع اپنائے جن میں فنڈز دیگر کمپینوں ٹرانسفر کرنا شامل ہے۔ اور ان میں کچھ کمپنیوں محض اسی مقصد کے لیے قائم کی گئی تھیں۔
تفتیش کے مطابق پہلے ملزم نے دیگر مدعاعلیہان کی کمپنیوں کے اکاؤنٹوں میں اپنی غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی رقم منتقل کرنے کے لیے رضامند ہوگیا۔
جس دوران اسٹیٹ بینک کو اکاؤنٹ میں کچھ غیر قانونی سرگرمیوں شک پڑا تو بینک نے مدعاعلیہ سے اسکے آپریشنز کی تصدیق کے لیے دستاویزات مانگیں لیکن وہ دستاویزات فراہم کرنے میں ناکام رہا۔
Source: Khaleej Times







