متحدہ عرب امارات

دبئی ویزا قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ویزے کا اسٹیٹس تبدیل کرنے میں مدد فراہم کرے گا

 

خلیج اردو آن لائن:

دبئی حکام کی جانب سے امارات میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو انکے ویزوں کا اسٹیٹس تبدیل کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے پروگرام کا آغاز کرے گا۔

اس اقدام کا آغاز GDRFA کی جانب سے کیا گیا ہے اور اس کا نام “Country without Violators” رکھا گیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد غیر قانونی طور پر لوگوں کو نوکری پر رکھنا، ویزے کی مدت سے زائد عرصے تک ملک میں قیام کرنے اور دیگر خلاف ورزیوں سے ہونے والے نقصان کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔

ایڈوکیٹ جنرل کے کونسلر ڈاکٹر علی حمائد بن خاتم نے غیر قانونی طور پر ملازمین بھرتی کرنے والے آجروں کو وراننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جرم کا مرتکب ہونا انکے لیے اور معاشرے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر علی کے مطابق اس کے جرم کا مرتکب ہونے والے افراد پر جرمانہ یا قید اور ملک بدری کی سزا عائد کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2017 میں یو اے ای اپنے قوانین تبدیل کر کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بھرتی کرنے والے کے لیے سزاؤں اور جرمانوں کو بڑہا دیا تھا۔ اور یہ جرمانہ 50 ہزار درہم سے شروع ہوتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگر کوئی آجر غیرقانونی طور پر ایسے فرد کو نوکری پر رکھتا ہے جسے ملک میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے تو ایسے آجر کو 1 لاکھ درہم جرمانہ، دو ماہ قید کی سزا اور ملک بدری کی سزا دی جا سکتی ہے۔

اور اگر کوئی آجر کسی در انداز کو نوکری دیتا ہے تو اس آجر کو 1 لاکھ درہم جرمانے اور دو ماہ قید کی سزا دی جائے گی۔

در اندازوں کی روک تھام کے ادارے کے ڈائریکٹر کرنل علی سلیم الشمسی نے بتایا کہ ویزا قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے حوالے تشویش کی بات یہ کہ اس سے معاشرے کی سیکیورٹی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال صرف 18 خطرناک جرائم ہوئے ہیں اور ان جرائم کا اتنی کم تعداد میں ہونا دبئی پولیس کی محنت کا نتیجہ ہے۔

ویزا قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے ویزا اسٹیٹ میں تبدیلی کے حوالے سے کیا اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں؟

دبئی میں ویزوں سے متعلق معاملات کو دیکھنے والے ادارے GDRFA کے فالو اپ سیکٹر کے ڈائریکٹر جنرل برگیڈیئر جنرل خلف احمد ال گھائت نے بتایا کہ محکمے نے دبئی میں یکم مارچ کے بعد سے غیر قانونی طور پر رہائش پذیر افراد کے حوالے سے کئی تحقیقات کی ہیں اور ادارہ اب ایسے اقدامات پر کام کر رہا ہے جس سے یکم مارچ کے بعد سے ویزا ختم ہونے کے بعد ملک میں رہائش پذیر افراد کو انکے ویزوں کا اسٹیٹس تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اقدامات مںظوری کے مراحل میں ہیں۔

مزید برآں، GDRFA کے ڈپٹٰی ڈائریکٹر کی جانب سے بتایا گیا کہ جون کے مہینے سے کورونا وبا کی وجہ سے ملک میں پھنس جانے والے 1600 سے زائد افراد کو ان کے ممالک واپس بھیج دیا گیا ہے۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button