متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات : نفرت انگیز مواد پر 200 ہزار درہم اورایک سال قید کی سزا ہوگی

خلیج اردو
20 دسمبر 2020
ابوظبہی : ابوظبہی محکمہ انصاف کے صدر اور ڈپٹی وزیر اعظم و وزیر صدارت امور شیخ منصور بن زید النہیان نے ابوظبہی میں خاندانی امور ، سول اور ایڈمنسٹریٹیو امور سے متعلق عدالتوں کے قیام سے متعلق فیصلے پر دستخط کر لیے ہیں۔

یہ عدالت ذاتی نوعیت کے معاملات ، سول اور ایڈمنسٹریٹیو اور کرایہ داری سے متعلق تنازعات کا فیصلہ کرے گی۔ اس پیشرفت کا مقصد عدالتی نظام میں مزید تیزی اور پائیداری لانا ہے۔

ابوظہبی جوڈیشل ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری یوسف سعید العابری نے اس بابت تصدیق کی کہ خصوصی عدالتوں کے قیام سے علاقائی اور عالمی سطح پر ابوظہبی کے عدلیہ کے سرکردہ مقام کو مزید تقویت ملی گی۔اس سے ایک مربوط نظام مہیا جس کی مدد سے شفاف اور جامع عدالتی نظام کو یقینی بنایا جائے گا اور اس سے عدالتوں کی آزادی اور کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔

العبری نے کہا کہ خاندانی معاملات متحدہ عرب امارات کی کسی بھی چیز میں دلچسپی رکھنے کی وجہ سے رازداری کے معاملے میں ایک اہم مسئلہ ہے جو خاندانی استحکام کو برقرار رکھنے اور معاشرے میں خاندانی ہم آہنگی کو یقینی بناتا ہے۔ ایسے میں جوڈیشل ڈیپارٹمنٹ اس خاندان کی پرائیویسی کا خاص خیال رکھتے ہوئے اس کیلئے سازگار ماحول فراہم کرے گا تاکہ قانونی چارہ جوئی کی تاثیر اور کارکردگی کو یقینی بنایا جاسکے۔

شیخ منصور کی جانب سے کیے جانے والے فیصلے میں یہ قرار دیا گیا ایک بار جب معاملہ عدالت میں آئے گا تو اور اس مرحلے کو مکملک یا جائے گا تو یہی ترجیح ہو گی کہ فوری معاملات میں بغیر کسی تعصب کے عارضی بنیادوں پر فیصلے کیے جائیں ۔ اس حوالے سے جلد ججز کی تعینات اور دیگر عمل کی ریہکروٹنگ کی جائے گی۔

ان عدالتوں کےججزکو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ جب بھی دعوے کی قیمت سے قطع نظر ، مذکورہ عدالت کے دائرہ اختیار میں آنے والے معاملات سے عبوری احکامات ، عارضی احکامات اور ادائیگی کے احکامات جاری کرے۔ عدالتی فیصلہ 1992 کے وفاقی قانون نمبر 11 کے ضابطوں میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہوگا۔

 

Source : Khaleej Times

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button