متحدہ عرب امارات

حکومت پاکستان نے 50 پائلٹس کے لائنسز جعلی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیئے

خلیج اردو
21 دسمبر 2020
اسلام آباد : پاکستان کی حکومت نے جانچ پڑتال کے بعد 50 پائلٹس کے لائنسسز جعلی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیئے۔

ڈان کے مطابق وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کی ضروریات اور معیار پر پورا اترنے کیلئے حکام نے تمام 860 کمرشل پائلٹس کے لائسنسز کا جائزہ لیا اور جانچ پڑتال کے بعد ان میں سے صرف 50 کو منسوخ کیا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے رپورٹ نے عدالت کو جمع کردہ رپورٹ میں بتایا کہ یہ پائلٹس قومی ایئرلائن سمیت پاکستان کے نجی اور غیرملکی ایئرلائنز کیلئے کام کر رہے تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ ان پائلٹس کے خلاف کارروائی کرے جو غیرمنصفانہ ذرائع سے لائسنسز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

25 جنوری 2019 کو سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نے پائلٹس کے لائسنسنز کیلئے تحقیقات کی درخواست کی تھی ۔ ان کے مطابق ان پائلٹس نے امتحان کے دوران مبینہ طور بے ضابگیاں کیں تھیں۔ جس کے بعد تحقیقات کیلئے بورڈ آف انکوائری تشکیل دیا گیا اور اس کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ کمپیوٹر ڈیٹا کے فرانزک ثبوت کے مطابق 262 پائلٹس کے لائسنسز ’جعلی’ امتحانات پر مبنی تھے۔

26 جون 2020 کو سی اے اے نے 262 پائلٹس اور ان کے لائسنسز کو تصدیق کے عمل سے گزارنے کیلئے انہیں کام سے روکتے ہوئے معطل کردیا ۔ ن 262 پائلٹس کے نام عوام کے سامنے لائے گئے ۔ 30 جون کو یورپین یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے یورپکیلئے پی آئی اے کی پروازوں کو 6 ماہ کیلئے معطل کردیا۔

6 جولائی کو 28 پائلٹس کے لائسنسز کی منسوخی کیلئے ایک سمری وفاقی کابینہ کو جمع کرائی گئی، جسے 7 جولائی کو منظور کرلیا گیا۔ ان 28 پائلٹؐس میں محمد ثقلین کا نام بھی شامل ہے جو اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس دائر کر چکے ہیں۔

24 جولائی کو ایک شکایت پر حکام نے ایف آئی اے سے درخواست کی کہ وہ درخواست گزار محمد ثقلین سمیت مشکوک لائسنسز کے اجرا میں ملوث مشتبہ سی اے اے حکام/ افراد اور پائلٹس کے خلاف انکوائری کرے، یہ انکوائری ابھی تک جاری ہے۔ 11 ستمبر کو دیگر 22 پائلٹس کے لائسنسز کی منسوخی کیلئے ایک اور سمری کابینہ میں جمع کرائی گئی جسے 15 تاریخ کو منظور کرلیا گیا۔

بین الاقوامی ہوا بازی کے ادارے، اقوام متحدہ کی ایجنسی جو بین الاقوامی ہوا بازی کی صنعت کی حفاظت کی نگرانی کرتی ہے، اس نے اپنے 18 ستمبر کے ایک خط میں تمام موجودہ لائسنسز کا جائزہ لینے کی تجویز دی۔جس کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ 860 فعال پائلٹس کے لائسنسز کا جائزہ لیا گیا جس میں 262 مشتبہ پائے گئے اور معطل کردیے گئے۔ تصدیق کے بعد 172 لائسنسز درست رہے جبکہ درخواست گزار سمیت 50 لائسنسز تصدیق کے عمل میں ناکام رہے اور انہیں کابینہ کی منظوری کے ساتھ منسوخ کردیا گیا۔

عدالت میں جمع کیے گئے رپورٹ میں کہا گیا کہ اس معاملے میں انکوائری سے قبل دیگر 2 پائلٹس کے لائسنسز منسوخ کیے گئے تھے۔ 32 دیگر پائلٹس کے لائسنسز بھی تصدیق میں ناکام رہے تھے اور وہ اس وقت معطل ہیں۔ انکوائری مکمل ہونے سے قبل 3 پائلٹس کی موت ہوگئی جبکہ باقی 3 پائلٹس کے لائسنسز کی تصدیق کا عمل ابھی جاری ہے۔

سپریم کورٹ میں زیر التوا ایک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2020 کے کورونا وائرس ازخودنوٹس میں سپریم کورٹ 25 جون، 21 جولائی اور 14 دسمبر کے اپنے احکامات میں اسی معاملے پر واضح طور پر احکامات دے چکی ہے جسے مذکورہ درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے اٹھایا گیا ہے۔ رپورٹ میں ہائیکورٹ سے درخواست کی گئی کہ وہ سپریم کورٹ کی جانب سے ازخود نوٹس کیسز کے حتمی فیصلے تک اپنی سماعتوں کو روکے۔

رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا کہ ایسے میں جب پاکستان کے پائلٹس کی بڑی تعداد غیرملکی ایئرلائنز میں کام کر رہی ہے، کسی بھی منفی حکم کے پاکستان کے ہوا بازی کے شعبے اور ایئرلائنز سمیت ان پائلٹس، جنہیں سی اے اے نے لائسنسز جاری کیے ہیں، ان کے لیے دور رس نتائج ہوں گے۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button