خلیج اردو
22 دسمبر 2020
ابوظبہی : کہا جاتا ہے کہ انصاف میں تاخیر دراصل انصاف کا قتل ہے۔ متحدہ عرب امارات ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں انصاف نہ صرف یقینی ہے بلکہ بروقت بھی کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں وقت کے ساتھ اصلاحات کیے جاتے ہیں۔
حال ہی میں معمولی نوعیت کی مقدمات میں تیزی لانے کیلئے متحدہ عرب امارات کی وفاقی عدلیہ نے ضابطہ فوجداری کے طریقہ کار کی بنا پر صرف ایک دن میں مخصوص معمولی مقدمات کے اصولوں کا جائزہ لینے اور ان کا اطلاق کرنے کیلئے ایک روزہ مس ڈیمنر عدالتوں کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ ان عدالتوں کا مقصد بیک لاک کلیئر کرنے ، فوجداری قانونی نظام کو زیادہ موثر بنانے اور معمولی مقدمات میں تیزی لانا مقصود ہے۔
اس مقصد کیلئے وزیر انصاف کے سلطان بن سعید آل بادی ال دھہری نے پیر کی شام ہر وفاقی عدالتی محکمہ میں ایک دن کی مس ڈیمنر عدالت قائم کی منظوری دی ہے جس میں تیزی سے 50 سے زائد بدعنوانیوں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔
یہ فیصلہ وزارت کی جانب سے عدالتی نظام میں جدت لانے اور بروقت انصاف کو یقینی بنانے کیلئے کوششوں کا حصہ ہے۔ وزیر انصاف نے کہا ہے کہ تمام معاشی ، سائنسی اور معاشرتی شعبوں اور اس طرح سے جو امارتیوں ، باشندوں اور ملک کے سیاحوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بناتا ہے اور عالمی مسابقت کے اشاریوں میں ریاست کی درجہ بندی کو بہتر بنانا ہے۔
یہ عدالتیں مزدوری کی ہڑتالوں سے متعلق مقدمات دیکھی گی ۔ موبائل فون ، وائرلیس اور وائرڈ مواصلات کے ذریعہ دوسروں کو جان بوجھ کر پریشان کرنے ، غلطی سے کسی کی املاک کو آگ لگانا، تدفین کی جگہوں کی بے حرمتی، نوزائیدہ بچوں کو اپنے قانونی سرپرستوں سے چھپانا ، نوزائیدہ بچوں کے والدین کے علاوہ کسی سے جھوٹی وابستگی ، گداگاری اور بچوں کی حمایت کے فیصلوں سے متعلق فیصلے کرے گی ۔ خودکشی کی کوشش اور جرائم سے وابستہ آلات کو چھپانا، غیر ملکی شہریوں کے داخلے اور رہائش سے متعلق وفاقی قانون سے متعلق تمام معاملات پر بھی عدالتیں توجہ دیں گی۔ اس میں بغیر کسی سفری اور داخلے کے اجازت نامے کے نقل و حمل کے کسی بھی طرح سے داخلہ یا قانون کو خراب کرنے کیلئے غلط معلومات فراہم کرنا ، بشمول انٹری ویزا جعلسازی یا کسی اور طرح سے قانون کی خلاف ورزی کے خلاف فیصلے کرنا شامل ہے۔
یہ عدالتیں ٹریفک کی خلاف ورزیوں کو بھی دیکھی گی ۔ نئی عدالتیں ان جرائم کے بارے میں بھی فیصلہ کرسکتی ہیں جہاں مجرموں کے اعتراض کے تحت جرمانے عائد کیے جاتے ہیں اور ان جرائم کے علاوہ جہاں ضابطہ فوجداری کے طریقہ کار کے مطابق صلح ممکن ہے ۔
متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل نے وضاحت کی ہے کہ وزارتی فیصلے کے تحت ، پبلک پراسیکیوشن طریقہ کار کو منصفانہ اور تیز تر کاروائیوں کے مابین توازن کو یقینی بنائی گی۔ ایسا نہیں ہوگا کہ تیز عدالتی کارروائیوں سے نظام عدل پر حرف آئے گا۔
Source : Khaleej Times







