خلیج اردو
22 دسمبر 2020
نیو دہلی : روانانت پورم میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے کیتھولک چرچ کے پادری اور راہبہ فادر تھامس کوٹور اور سسٹر سیفی کو سسٹر ابھایا کے قتل کا مجرم قرار دیا۔
خصوصی سی بی آئی جج کے سنال کمار نے سسٹر ابھایا کے قتل کے 28 سال بعد یہ فیصلہ سنایا ۔ آج سے 28 سال قبل کوٹیم میں پیوس ایکس کانونٹ کے کنویں میں سسٹر ابھایا مردہپائی گئی تھی۔ واقعہ کے وقت 19 سالہ نانیا کیتھولک نون ، کوٹئیم کے بی سی ایم کالج میں پری ڈگری کے طالب علم تھے۔
ابتدا میں اس واقعے کو پولیس نے خودکشی قرار دیا تھا جس کے بعد سی بی آئی کے چار بار تحقیقات اور عدالتی مداخلت کے سلسلے نے اس معاملے کو حل کیا۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ، سی بی آئی کوچی یونٹ نے نتیجہ اخذ کیا کہ سسٹر ابھایا سرد مہری سے قتل کیا گیا تھا کیونکہ اس سے دو پجاریوں اور راہبہ کے ناجائز تعلقات کو چھپانا مقصود تھا۔
تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ سسٹر ابھایا پانی لانے کیلئے کانونٹ کے باورچی خانے گئی تھیں اور فادر تھامس کوٹور ، فادر جوس پوتریکائیل اور سسٹر سیفی کو نامناسب حالت میں دیکھ کر حیران رہ گئی۔ اس ڈر سے کہ کہیں ان کی ساکھ خراب نہ ہو ، سیفی نے سسٹر ابھایا کو کلہاڑی سے مار ڈالا اور دونوں پجاریوں کی مدد سے اسے کنویں میں پھینک دیا۔
اگست 2019 میں سی بی آئی کی عدالت میں اس کیس کی سماعت شروع ہوئی تھی اور ملزم نے عدالت سے کورونا وائرس کی وجہ سے کارروائی روکنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم ان کی درخواست کو خارجہ کیا گیا۔ استغاثہ نے 49 گواہوں کو عدالت میں پیش کیا اور گواہوں کے بیانات اور دیگر شواہد سے سسٹر ابھایا کیس قتل ثابت کیا گیا۔
Source : Khaleej Times







