متحدہ عرب امارات

کورونا کی نئی خطرناک اقسام ، سائندانوں کو پرانے ویکسین سے کام لینے میں کیا مشکلات ہیں ؟

خلیج اردو
08 جنوری 2021
نیویارک : کورونا کی نئی خطرناک قسم کے بارے میں معلوم ہونے کے بعد جہاں دنیا مختلف خطرات کیلئے خود کو تیار کررہی ہے وہاں طب سے جڑے ماہرین اس کا علاج ڈھونڈنے کیلئے کوشاں ہیں۔ ماہرین کے مطابق پیفزر بائیوٹک ویکسن کورونا وائرس کی نئی قسم کے خلاف موئثر ہے۔

اگرچہ ابھی تک اس کا ٹیم میں مطالعہ نہیں کیا گیا ہے ، لیکن ٹیئکساس میڈیکل برانچ نے عندیہ دیا ہے کہ پیفزر ویکسین این 501 ای کوپروٹین میں بڑھنے سے روکنے کیلئے مفید ہے۔

پیفزر پر تحقیق کرنے والے فل ڈورمٹزر نے کہا ہے کہ اس وائرس کی میوٹیشن زیادہ فعال حد تک کم کیا جا سکتا ہے اور اس سے یہ وائرس سے بچنے والے اینٹی باڈی کو بھی ویکسین کے ذریعے غیر فعال کرنے کا باعث بن سکتا ہے اور یوں وائرس کی منتقلی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

یہ ریسرچ ان افراد پر کی گئی اور نمونے ان کے خون سے لیے گئے جن کو یہ ویکسین دی گئی تھی۔ اس کی تلاشیں محدود ہیں ، کیونکہ اس میں تیزی سے پھیلتے ہوئے وائرس کی نئی شکلوں میں سے کسی میں پائے جانے والی تبدیلی کا مکمل سیٹ نظر نہیں آتا۔ ڈورمیٹزر کے مطابق یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ یہ ویکسین میوٹیشن کے خلاف کارآمد دکھائی دیتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم نے 16 مختلف تغیرات کا تجربہ کیا ہے اور ان میں سے کسی پر واقعی کوئی خاص اثر نہیں ہوا ہے۔ یہ اگرچہ ایک اچھی خبر ہے لیکن اس بات کو خارج ازامکان نہیں کہ 17 واں شخص متائثر نہیں ہوگا۔

ڈورمیٹزر نے نوٹ کیا کہ ہے کہ ساوتھ افریقہ میں دریافت کیا جانے والا میوٹیشن ای 484 کے بھی تشویش ناک ہے ۔ محقیقین اسی حوالے سے بھی ایسا ہی ٹیسٹ کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ کی مختلف حالتوں میں پائے جانے والے دیگر مختلف تبدیلیوں کے خلاف یہ ویکسین موثر ہے یا نہیں ۔ انہیں توقع ہے کہ چند ہفتوں میں اس اعدووشمار میں مزید اضافہ ہو گا۔

تاہم یہ بھی قابل غور ہے کہ سائنس دانوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ لگائے جانے والی ویکسین کورونا کی نئی قسموں سے بچانے کے قابل نہیں ہوسکتی ۔خاص کر جنوبی افریقہ میں جو کورونا کی خطرناک قسم سامنے آئی ہے ، اس کے خلاف تو بالکل بھی موئثر نہیں ہے۔

یونیورسٹی آف ریڈنگ کے سیلولر مائکرو بایولوجی کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر سائمن کلارک کا کہنا ہے کہ کورونا کی دونوں ہی اقسام میں کچھ نئی خصوصیات پائی جاتیں ہیں جو مشترک ہیں ۔ جو قسم جنوبی افریقہ میں دریافت ہوئی ہے اس میں تبدیلیاں زیادہ ہیں اور ان ویکسین میں یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ وہ پروٹین میں زیادہ تیزی سے پھیلے ۔

سائنسدانوں نے یہ مشورہ دیا ہے کہ پیفرز بائیو ٹیک ٹیک اور موڈرننا انکارپوریشن جو مصنوعی میسنجر آر این اے ٹکنالوجی کا استعمال کرتی ہے ، بہت ضرورت میں کسی وائرس کے نئے تغیرات کو دور کرنے کیلئے فوری طور پر لگائی جا سکتی ہے۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button