خلیج اردو
22 جنوری 2021
ابوظبہی : متحدہ عرب امارات میں کورونا وائرس کی وجہ سے لوگوں کی حفاظتی کی خاطر حکومت نے بڑا اقدام اٹھالیا ہے۔ وہ افراد جن کو کورونا ویکیسن کسی ایک یا دوسری وجہ سے نہیں لگائے جاتے یا وہ اس کے خوہش مند خود نہیں ہیں ، ان شہریوں اور رہائشیوں کیلئے کورونا پی سی آر ٹیسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔
پیر کو جاری ضوابط کے مطابق مختلف زامروں میں شامل شہریوں کیلئے لازمی ہے کہ وہ چند دنوں بعد خود کی اور عوام کی حفاظ کیلئے پی سی آر ٹیسٹ کریں۔ صرف ان لوگوں کیلئے استثنیٰ حاصل ہے جنہوں نے کورونا ویکسین لیے ہیں۔
وفاقی اتھارٹی برائے حکومتی انسانی وسائل نے ہدایت جاری کی ہے تمام سرکاری محکموں کے ملازمین لازمی کورونا ٹیسٹ ہر ہفتے میں کریں گے۔ اگر اہلیت ہوتے ہوئے بھی وہ کورونا ویکسینج نہیں لگوارہا تو اسے ہر ہفتے ٹیسٹ کیلئے خود سے پیسے دینے پڑیں گے۔ اگر کسی وجہ سے ملازم ویکیسن کے عمل کیلئے اہل نہیں تو اس کی کمپنی یا آجر اس کے ٹیسٹ کا خرچہ ادا کرے گا۔
تحديث إجراءات التصدي لكوفيد- 19 في الوزارات والجهات الاتحادية
تشمل مسحة أنف كل 7 أيام ويستثنى منها الحاصلون على جرعتي اللقاح pic.twitter.com/1g6m7L0O6C— FAHR (@FAHR_UAE) January 18, 2021
سرکاری کمپنیوں نے ہر ہفتے ملازمین کے ٹیسٹ کرانے کے حوالے سے ٹھیکہ مختلف فرمز کو دیا ہے اور اسے اوٹ سورس کیا ہے۔ وہ ملازمین جنہوں نے لازمی اجلاسوں میں شرکت کرنے ہوتی ہے ان کیلئے لازم ہے کہ وہ اجلاس کے بعد تین دنوں کے اندر اپنا ٹیسٹ کیا کریں۔
For your safety and for theirs, and as per the guidelines issued by Department of Health, the following procedures for inpatient visits are now in effect.@DoHSocial #SEHA #Healthcare #inAbuDhabi pic.twitter.com/C7pwf2cIJd
— SEHA – شركة صحة (@SEHAHealth) January 18, 2021
دوسری طرف ابوظبہی میںض داخلے کیلئے لازمی ہے کہ کورونا پی سی آڑ کا منفی نتیجہ ہو اور ٹیسٹ 48 گھنٹوں کے اندر کیا گیا ہو۔ یہاں قیام کے چوتھے دن کورونا ٹیسٹ کرانا لازمی ہے۔
The Abu Dhabi Emergency, Crisis and Disasters Committee has updated procedures to enter Abu Dhabi from within the country, effective from Sunday, 17 January, as part of the proactive efforts and precautionary measures to contain and eliminate the spread of Covid-19. pic.twitter.com/MIkfqUEDZg
— مكتب أبوظبي الإعلامي (@ADMediaOffice) January 16, 2021
Source : Khaleej Times







