خلیج اردو آن لائن:
امریکہ میں پولیس اہلکار کی جانب سے نہتے سیاہ فام کے قتل کے بعد شدت سے شروع ہونے والی بلیک لائیوز میٹر نامی تحریک کو نوبیل امن انعام کے لیے تجویز کر دیا گیا ہے۔
بلیک لائیوز نامی تحریک سیاہ فام افراد کی زندگیوں اور انکے حقوق کی اجاگر کرنے کے لیے 2013 میں شروع کی گئی تھی۔ تاہم اس تحریک میں شدت گزشتہ سال مئی میں امریکی پولیس کے ہاتھوں جارج فلائڈ نامی سیاہ فام کی ہلاکت کے بعد آئی۔
جارج فلائیڈ کی ہلاکت ایک پولیس والے کی جانب سے گھٹنا 8 منٹ تک جارج کی گردن پر رکھنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ جارج پولیس اہلکار سے التجا بھی کرتا رہا کہ وہ سانس نہیں لے پا رہا لیکن پولیس اہلکار نے اپنا گھٹنا نہیں اٹھایا جس سے جارج کی موت ہوگئی۔
اس واقع کے بعد امریکہ بھر میں شدید احتجاج شروع ہوگئے اور دنیا بھر میں پھیل گئے۔
بلیک لائیوز میٹر کا نام نوبیل انعام لیے تجویز کرنے والے سوشلسٹ قانون ساز پیٹر ایڈی کا کہنا تھا کہ”یہ تحریک نسلی نا انصافی کے خلاف دنیا بھر میں سب سے زیادہ مضبوط تحریک بن گئی ہے”۔
خیال رہے کہ دنیا بھر سے مختلف افراد جیسا کہ سیاست دان، وزیر، سابق نوبیل انعام یافتہ افراد اور ممتاز ماہرین تعلیم نوبیل انعام کےلیے نام تجویز کر سکتے ہیں۔
نوبیل انعام کے لیے نام تجویز کرنے کی ڈٰیڈ لائن اتوار کو ختم ہوجائے گی۔
نوبیل انعام کا اعلان اکتوبر کے شروع میں کیا جائے گا۔ تاہم اس سال کا نوبیل امن انعام ورلڈ فوڈ پروگرام کو دیا گیا تھا۔
Source: Khaleej Times







