متحدہ عرب امارات

اگر کورونا ویکسین کی پہلی خوراک کے بعد آپ کو کورونا وائرس لاحق ہو جائے تو کیا کرنا چاہیئے ؟

خلیج اردو
17 فروری 2021
دبئی: ایک عام آدمی کیلئے آسان الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کورونا وائرس کا ابھی تک علاج ممکن نہیں ، اس کے خطرات کم کرنے کیلئے حفاظتی ویکسین دریافت ہوئی ہے ۔ یہ ویکسین دو خوراکوں کی صورت میں دی جاتی ہے اور پہلی اور دوسری خوراک کے درمیان تین سے چار ہفتوں کا وقفہ دینا ہوتا ہے۔ جب تک دوسری خوراک مکمل نہ ہو ، کورونا ویکسین کا اثر تب تک شروع نہیں ہوتا۔

ایسے میں پہلی خوراک لینے کے بعد یہ خطرہ بدستور موجود رہتا ہے کہ آپ کورونا وائرس سے متائثر ہوں ، وہ لوگ جو پہلی خوراک کے بعد متائثر ہوتے ہیں وہ کورونا وائرس سے صحت یابی کے بعد دوسری خوراک لے سکتے ہیں۔ وزارت صحت اور روک تھام کے حکام نے تصدیق کر دی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے صحت کے شعبے کی سرکاری ترجمان ڈاکٹر فریدہ الحوسانی نے وضاحت کی ہے کہ وہ لوگ جو کورونا وائرس کی پہلی خوراک کے بعد وائرس سے متائثر ہوجاتے ہیں ، ہم انہیں مکمل صحت یابی کے بعد دوسری خوراک مکمل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

اگر کسی شخص کو دریانی یا شدت کے علامات ہیں اور انہیں اسپتال میں داخل ہونا ضروری ہے تو مریض کو چاہیئے کہ ڈاکٹر سے مشورہ کرے اور ڈاکٹر ہی اس بات کا تعین کرے گا کہ مریض کو دوسری خوراک لینی چاہیئے یا نہیں۔ ڈاکٹر مریض کے ٹیسٹ اور ان کا معائنہ کرکے درست فیصلہ کر سکتا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بہت سے افراد میں پہلی خرواک کے بعد کورونا وائرس کی تشخیص ہوتی ہے اور ایسا ان کے کورونا زدہ ماحول میں ایکسپوز ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ ویکسینشن مہم کے آغاز سے ہی ہورہا ہے اور ابھی پچاس فیصد کے قریب آبادی کو ویکسین دیئے جا چکے ہیں اور امید ہے جیسے یہ مرحلہ مکمل ہو گا ، کورونا کیسز میں کمی آئے گی۔

ڈاکٹر الحسنی نے کہا کہ ویکسینیشن کورونا وباء کو شکست دینے کا ایک بہترین طریقہ ہے کیونکہ معاشرے میں ویکسینیشن کی شرح جتنی زیادہ ہوگی ، استثنی، بچاؤٰ کی شرح بھی اتنی ہی زیادہ ہے۔ اس سے ہم ہرڈ ایمونٹی کی طرف جائیں گے۔

وزارت انسانی حقوق نے تمام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ویکسین کی دوسری خوراک لینے کا عہد کریں کیونکہ اس سے بیماری کی روک تھام کو بڑے پیمانے پر یقینی بنایا جائے گا۔ ہم تمام باشندوں سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ دونوں خوراکیں لینے کے بعد بھی حفاظتی اقدامات جاری رکھیں۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button