خلیج اردو آن لائن
دبئی کی ابتدائی عدالت نے ایک بھارتی انجینئر کو کمپنی کی خفیہ معلومات افشا کرنے کے الزام سے بھری قرار دے دیا۔
بھارتی انجینئر پر پر الزام عائد تھا کہ اس نے اپنے ایک ساتھ انجینئر کے ساتھ مل کر کمپنی کا پراجیکٹ ڈیزائن لیک کیا ہے۔
تاہم، دوران سماعت بھارتی انجینئر نے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کمپنی کی جانب سے خفیہ راز افشا کرنے کی کہانی من گھڑت اور یہ دراصل بھارتی انجینئر کی جانب سے کمپنی کے خلاف لیبر کمپلینٹ درج کروانے کے بعد انجینئر کے خلاف گھڑی گئی ہے۔
وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ ” میرے موکل نے یکم 2020 کو کمپنی سے اپنی نوکری کا اختتام پر ملنے والے معاؤضے کے حصول کے لیے ایک لیبر کمپلینٹ درج کروائی اور عدالت نے کمپنی کو وہ رقم ادا کرنے کا حکم دیا۔ کیونکہ میرے موکل میں کمپنی کے خلاف شکایت درج کروانے کی ہمت تھی اس لیے کمپنی نے اس کے بعد میرے کلائنٹ کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا”۔
مزید برآں، کمپنی کے ایک عہدیدار نے گواہی دی کے مدعا علیہ انجینئر نے جنوری 2020 میں کچھ خلاف وریزوں کے باعث کمپنی چھوڑ دی تھی لیکن وہ اس کی جگہ آںے والے انجینئر سے رابطے میں تھا۔
اہلکار نے بتایا کہ نئے آنے والے انجینئر نے کمپنی کے ڈیزائن مدعا علیہ انجینئر کو ایمیل کر دیے۔
تاہم، مدعا علیہ انجینئر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس موکل نے 2018 میں کمپنی میں نوکری حاصل کی اور نومبر 2019 میں مستعفی ہوگیا۔ اور وہ نئے آنے والے انجینئر کے ساتھ نوٹس پیریڈ کے دوران کام کرتا رہا۔ لیکن مدعاعلیہ انجینئر یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ اسکی جگہ آنے والے انجینئر نے اسے وہی فائلز دوبارہ ایمیل کیں ہیں جو وہ اسکے کام کے دوران اسے ایمیل کر چکا تھا۔
اس موقع پر مدعاعلیہ انجینئر کو شک ہوا اس کے خلاف کچھ غلط کیا جا رہا ہے۔ وکیل نے مزید بتایا کہ کمپنی نئے انجینئر کو بھی دو ماہ نوکری سے نکال کر اسے اس کے ملک واپس بھیج دیا۔
وکیل نے عدالت کو قائل کرنے کے لیے بتایا کہ ان شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ "میرے کلائنٹ کے خلاف لگایا یہ الزام جھوٹا ہے۔ اور میرے موکل کے پاس یہ سب ڈیزائن پہلے بھی موجود تھے لیکن اس نے استعفی دینے کے بعد انہیں حاصل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی”۔
عدالت نے دونوں انجینئروں کو الزام سے بھری قرار دیا اور نظر ثانی عدالت نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔
Source: Gulf News







