خلیج اردو آن لائن:
2016 میں دبئی سے اپنے آجر کے 30 ہزار درہم چوری کر کے اپنے ملک فرار ہوجانے والی گھریلو ملازمہ کو 5 سال بعد یو اے ای واپس آنے پر گرفتار کر لیا گیا۔
41 سالہ انڈونیشیائی خاتون ملازمہ اور اسکی ایک ساتھی ملازمہ 2016 میں القسیس کے علاقے میں واقع اپنے آجر کے گھر سے 30 ہزار درہم چوری کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔
دبئی کی ابتدائی عدالت کے مطابق دونوں ملازمہ رقم چوری کرنے کے بعد اپنے آبائی ملک فرار ہوگئی تھیں۔ تاہم، مدعاعلیہ خاتون جب 5 سال بعد متحدہ عرب امارات واپس آئی تو اسے گرفتار کر لیا گیا۔
امارتی اسپانسر کی گواہی کے مطابق دسمبر 2016 میں اس کی فیملی ملک سے باہر گئی تھی تو دونوں ملازمہ ایک ڈرائیور کےساتھ گھر پر موجود تھیں۔
اسپانسر کے مطابق "مجھے ڈارئیور کی جانب سے ایک فون کا موصول ہوئی جس میں بتایا گیا تھا کہ دونوں ملازمہ اپنے پاسپورٹ پر لے کر فرار ہو چکی ہیں۔ اور جب میں کچھ دنوں کے بعد واپس آیا تو پتہ چلا کہ وہ بچوں کی الماری میں ایک بیگ میں رکھے 30 ہزار درہم بھی چوری کر کے لے گئی ہیں”۔
ریکارڈ کے مطابق دونوں خواتین نے ڈرائیور کو انکی غیر موجودگی کا پتہ چلنے سے پہلے ہی ملک چھوڑ دیا تھا۔ اسپانسر کے مطابق دونوں نے فضائی ٹکٹ بھی چوری کی گئی رقم سے خریدی ہوگی کیونکہ انکے پاس ٹکٹ خریدنےکے لیے رقم نہیں تھی۔ اور وہ اپنی ساری تنخواہ اپنے ملک بھیج دیا کرتی تھیں۔
تاہم، گرفتار کی جانے والی ملازمہ نے اقرار کیا ہے کہ اس کی ہم وطن دوسری ملازمہ نے رقم چوری کی تھی جبکہ اس نے پاسپورٹ لیے اور ٹکٹ بک کروائی تھی۔
پبلک پراسیکیوشن نے ملازمہ پر چوری کا الزما عائد کر دیا ہے۔ جبکہ مقدمے کا فیصلہ 6 اپریل کو متوقع ہے۔
Source: Gulf News







