متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات : 100 ملین کھانوں کی مہم ، آپ کا ایک درہم کہاں کہاں تک پہنچے گا؟

خلیج اردو
12 اپریل 2021
دبئی : جب آپ متحدہ عرب امارات کے 100 ملین کھانوں سے متعلق مہم میں رقم عطیہ کرتے ہیں تو آپ نہ صرف ضرورتمندوں کی مدد کرتے ہیں بلکہ آپ دنیا بھر میں بھوک کے خاتمے کیلئے کوششوں کی ہمایت کرتے ہیں۔

اس مہم کیلئے پہلےسے 1.5 ملین کھانوں کا عطیہ پہلے سے کیا گیا ہے۔ اس مہم کا آغازاس اتوار کو کیا گیا ہے۔

100 کھانے نادار اور بے کس آفراد کو فراہم کرنے کی یہ مہم ابتک کی سب سے بڑی مہم وہ مومنٹم پیدا کررہا ہے جس سے دنیا کو درپیش بھوک جیسے لعنت کو قابو کیا جا سکتا ہے۔

کابینہ امور کے وزیر اعظم راشدالمکتوم کے اس عالمی کوششوں کیلئے قائم اس ٹرسٹ محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشیٹیو کے سیکرٹری جنرل محمد الگیرگاوی کا کہنا ہے کہ بھوک کے عالمی سماجی مسئلہ پر قابو کیلئے کوششوں میں 100 ملین کھانے فراہم کرنے کی مہم ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

انہون نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ہمیشہ کیلئے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑا ہوا ہے۔

مہم میں حصہ لینے کیلئے متحدہ عرب امارات کے اندر یا باہر آپ نے بس ایک درہم کا عطیہ دینا ہے ۔

اس مہم کا اہتمام ایم بی آر جی آئی نے ورلڈ فوڈ پروگرام ، محمد بن راشد المکتوم ہیومینیٹیریٹ اینڈ چیریٹی اسٹیبلشمنٹ (ایم بی آر سی ایچ) ، فوڈ بینکوں کا علاقائی نیٹ ورک ، اور خصوصی انسان دوست اور خیراتی اداروں کے تعاون سے کیا ہے۔

دبئی کے حکمران برائے انسانی و ثقافتی امور کے مشیر اور ایم بی آر سی ایچ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے وائس چیئرمین ، ابراہیم بومیلہا نے کہا ، ’’ 100 ملین کھانوں ‘‘ کی مہم متحدہ عرب امارات کے گہرے انسانی اصولوں کی عکاسی کرتی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے شہریوں اور رہائشیوں کو عطیہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس سے قطع نظر کہ اس کی رقم کتنی ہی کم ہے ، بولیمہا نے کہا کہ ہر درہم اہم ہوتا ہے اور ہر درہم ہم سے صرف چند گھنٹوں کے فاصلے پر ممالک میں کسی ضرورت مند کی زندگی میں فرق لاسکتا ہے۔ یہ علاقائی سطح پر چلنے والی مہم ہمیں زیادہ سے زیادہ زندگیوں میں فرق پیدا کرنے کیلئے اکٹھے ہونے کا اہل بناتی ہے۔

اس مہم میں حصہ ڈالنے کیلئے www.100millionmeals.ae; پر جاکر یا 8004999 پر کال کرکے یا پھر AE080240001520977815201 میں رقم ٹرانسفر کرکے یا پھر meal لکھ کر اتصلات یا ڈی یو کی ویب سائیٹ پر دیئے گئے نمبر پر بھیج سکتے ہیں۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button