متحدہ عرب امارات

سزائے موت کے منتظر بھارتی قیدی کو 9 سال بعد رہائی مل گئی

خلیج اردو
09 جون 2021
ابوظبہی : متحدہ عرب امارات میں سزائے موت کے منتظر قیدی جیل میں 9 سال گزارنے کے بعد اپنے ملک واپس چلا گیا۔ وہ ایک ٹریفک حادثے میں یہاں قید کیا گیا تھا۔

کرشن کو ایک ٹریفک حادثے کی وجہ سے سزائے موت کی سزائے موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ ستمبر 2012میں انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس کی سزا لالو گروپ کے چیئرمین ایم اے یوسف علی کی جانب سے 500 ہزار درہم کی ادائیگی کے بعد ختم کی گئی۔

کرشن کو منگل کے روز ابوظبہی سے اپنے ملک روانہ کیا گیا۔ کوچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ان کیلئے دوسری زندگی ہے۔ان کے مطابق انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ انہیں دوبارہ آزادی ملے گی۔

ایئرپورٹ پر کرشنن کی اہلیہ وینا اور بیٹے اڈوایت نے کرشنن کا استقبال کرنے کے دوران جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ انہوں نے لالو یوسف اور اس کے خاندان کا شکریہ ادا کیا۔

گھر پہنچنے پر کرشنن کی والدہ اپنے بیٹے کو دیکھ کر ٹوٹ گئیں۔ یہاں تک کہ 2012 سے کرشنن کے اہل خانہ اور دوست جیل سے اس کی رہائی کیلئے کوشاں ہیں لیکن کامیابی کے بغیر۔ اس کے بعد یہ خاندان یوسف علی کے پاس پہنچا جس نے یہ معاملہ اٹھایا ، متاثرہ افراد کے لواحقین کو ایک ماہ کیلئے سوڈان سے ابوظہبی روانہ کیا اور معاوضے کی رقم پہنچنے اور کرشنن کو معافی دینے کیلئے انتہائی کوششیں کیں۔

یوسف علی نے کہا کہ اس نیکی کی وجہ اپریل میں ان کے ہیلی کاپٹر حادثہ نہیں ۔ میں اپنے ہیلی کاپٹر حادثے کی وجہ سے ایسا نہیں کررہا بلکہ میں نے جنوری میں معاوضے کی رقم ادا کردی تھی ۔ وہ ایک نوجوان ہے اور اس کا ایک خاندان ہے۔ آپ زندگی کی قیمت کو پیسوں سے نہیں ماپ سکتے ہیں۔

کرشنن اب کیرالا میں ملازمت ڈھونڈنے اور وہیں سکونت اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button