متحدہ عرب امارات

قرآن پڑھانے والے استاد پر کم سن بچی کو ہراساں کرنے کا الزام ثابت نہ ہو سکتا ، عدالت نے ملزم کو بری کر دیا

خلیج اردو
03 اکتوبر 2021
دبئی : قرآن پڑھانے والے استاد کو 11 سالہ بچی کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام ثابت نہ ہونے پر بری کر دیا ۔ ملزم پر الزام تھا کہ اس نے گھر میں پڑھاتے ہوئے بچی کو ہراساں کیا تھا۔

استعاثہ عامہ کی جانب سے تحقیقات کے مطابق ایشائی باشندے کو بچی کو گھر میں پکڑ کر جنسی فائدہ حاصل کرنے کا الزام تھا۔ متائثرہ بچی کے مطابق قرآن پڑھانے والے امام جو بچی کے دو باقی بھائیوں اور اسے اس وقت پڑھانے آتا تھا جب اس کی ماں کام پر ہوتی تھی۔

بچی کے مطابق امام اسے چومتا تھا اور چھولیا کرتا تھا اور ایکولیٹر تک اس کا پھیچا کرتا تھا۔ یہ سب ایک سال تک چلتا رہا تھا۔

ایمریت الیوم کے مطابق بچی نے والدہ کو اس وجہ سے نہیں بتایا کہ وہ شرما رہی تھی اور گھبرائی ہوئی تھی۔ تاہم اس نے آخرکار ہمت باندھ کر ماں کو بتایا۔ یہ سب گھر میں کیمروں کے ہوتے ہوئے چلتا رہا۔

متائثرہ بچی کی ماں نے بتایا کہ پچھلے ستمبر اس کی ماں نے بتایا کہ قرآن پڑھانے والے قاری نے اسے چوم لیا ، ہاتھ لگایا اور ایلیویٹر میں اس کے پھیچے کھڑا رہا۔ جب بچی دوسرے اسکول مین گئی تو امام نے اس کا وہاں بھی پھیچا کیا۔

ماں نے اپنے 14 سالہ بچے سے پوچھا کہ اگر اس نے ایسا کچھ دیکھا ہے تو اسے بتا دیں لیکن بیٹے نے ایسا کچھ نہیں بتایا۔ دبئی پولیس کے فورانزک رپورٹ نے تصدیق کی کہ بچی کے جسم پر کوئی نشان نہیں ملا۔ ملزم نے تمام تر الزامات کو مسترد کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ یہ تو غیر منطقی بات ہےکہ ملزم نے بچی کے بھائی کی گھر میں موجودگی میں نازیبا حرکت کی ہوگی۔ گھر میں موجود کیمروں سے بھی ایسی کسی حرکت کی تصدیق نہیں ہوئی۔

الزامات ثابت نہ ہونے پر عدالت نے ملزم کو بری کر دیا۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button