
خلیج اردو آن لائن:
دبئی میں ایک گھریلو ملازم کو ایک بزرگ اماراتی کو قتل کرنے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔ بزرگ اماراتی کو دیکھ بھال کے لیے گھریلو ملازم کے سپرد کیا گیا تھا۔
تیس سالہ ملزم کا تعلق پاکستان ہے اور اس پر بززگ کو ناڑے سے گلا گھونٹ کر قتل کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
واقعہ گزشتہ سال 15 جون کا ہے جب مقتول کی بیوی شاپنگ کے لیے بازار گئی اور شوگر کے مریض شوہر کو گھریلو ملازم کے ساتھ چھوڑ گئی۔ تاہم، دو گھنٹے بعد مدعا علیہ نے خاتون کو فون کیا اور بتایا کہ اس کا شوہر بے ہوش ہوگیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی خاتون واپس بھاگی اور اس نے گھر میں داخل ہوتے ملازم کو دیکھا۔
42 سالہ ایرانی خاتون نے عدالت کو بتایا کہ "اس نے مجھے بتایا کہ کہ میرا شوہر مرا نہیں بے ہوش ہوا ہے”۔ خاتون نے اپنے شوہر کو فریج کے پاس فرش پر گرا ہوا دیھکا تو اس نے سوچا کہ وہ گر گیا کیونکہ ایسا پہلے بھی ہو چکا تھا۔
خاتون نے یہ سوچتے ہوئے کہ اس کا شوہر ابھی زندہ ہے ایمبولینس بلائی اور پنے دو سوتیلے بیٹوں کو فون کیا۔
مقتول کے بیٹے جب اس سے ملنے آئے تو ان میں سے ایک بھاگ کر باپ کے گلے لگا۔ مقتول کے 22 سالہ بیٹے نے بتایا کہ "جب میرا بھائی باپ کو گلے مل رہا تھا میں س نے اپنے باپ کے گلے میں کپڑے کا ٹکڑا اور ازا بند دیکھا۔ جس پر میں نے ملازم سے پوچھا کہ کیا ہوا تھا تو اس نے قہقہ لگایا”۔
بیٹےنے مزید بتایا کہ واقعہ سے ایک مہینہ پہلے ان کے باپ انہیں بتایا تھا کہ ملازم اس کے ساتھ بد تمیزی کرتا ہے اور اکثر اسکا گلا دبا دیتا ہے یا دھکا دے دیتا ہے۔ "لیکن ہم نے تب اس بات کو سچ نہیں سمجھا”۔
جس کے بعد تفتیش کاروں نے ملازم کو ڈھونڈنا شروع کیا جو تب وہاں نہیں ملا لیکن اگلے دن اسی علاقے سے گرفتار کر لیا گیا۔
تفتیش کے دوران اس نے بتایا کہ مقتول اسے اکثر تشدد کا نشانہ بناتا اور بدتمیزی کرتا تھا۔ مدعاعلیہ نے موقف اختیار کیا کہ واقعہ کے دن بھی چائے اور شیشہ بنانے میں تاخیر ہونے پر مقتول نے اپنے ازا بند سے اسکا گلا گھنونٹے کی کوشش کی تھی۔
مدعاعلیہ نے دعویٰ کیا کہ "اس نے اپنے تحفظ کے لیے رد عمل دیا اور مقتول سے ازار چھینا اور ایک اور کپڑے کا استعمال کرتے ہوئے اسے گلا گھونٹ دیا”۔ گزشتہ سال اگست میں مدعاعلیہ نے ارادہ قتل کے الزامات ماننے سے انکار کر دیا۔ تاہم، اس منگل عدالت نے مدعاعلیہ کو عمر قید کی سزا سنادی۔ سزا مکمل کرنے کے بعد مدعاعلیہ کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔
Source: Khaleej Times







