متحدہ عرب امارات

افغانستان کی نئی قائم شدہ حکومت میں بنیادی ذمہ داریاں نبھانے والے کون ہیں؟

خلیج اردو
08 ستمبر 2021
کابل : طالبان نے جمعرات کے دن عبوری کابینہ کا اعلان کیا ہے جس میں کچھ بنیادوں پر وزراء کو نامزد کیا ہے۔ ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

ملا محمد حسن آخوند ، قائم مقام وزیر اعظم : وزارت اعظمیٰ کیلئے نامزد آخوند طالبان کی طاقتور فیصلہ ساز تنظیم رہبری شوریٰ یا لیڈر شپ کونسل کے دیرینہ سربراہ ہیں۔ وہ 1996-2001 تک طالبان کے پچھلے دور حکومت میں پہلے وزیر خارجہ اور پھر نائب وزیر اعظم رہے ہیں۔

اس کا تعلق طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے قندھار سے ہے۔ خلیج ٹائمز نے طالبان کے ذرائع کا حوالہ دے کر بتایا ہے کہ آخوند کو تحریک طالبان کے اندر خاص طور پر اس کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے بہت عزت دی جاتی ہے۔

ان کی عزت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ تحریک کے بانی رہنما ملا محمد عمر کے قریب رہا ہے۔

کچھ مبصرین اخوند کو 60 سال کے وسط میں اور ممکنہ طور پر انہیں بزرگ سیاسی شخصیت کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ لیڈر شپ کونسل پر ان کے کنٹرول کے ساتھ انہیں عسکری امور پر بھی مہارت حاصل ہے۔

ملا عبدالغنی برادر ، قائم مقام نائب وزیر اعظم : ملا برادر ایک وقت میں طالبان رہنما ملا عمر کے قریب رہے ہیں۔ ملا عمر نے انہیں اپنے بھائی کا خطاب دیا۔ طالبان کے پچھلے دور حکومت میں انہیں نائب وزیر دفاع کے طور پر خدمات ادا کرنے کا تجربہ ہے۔

ملا برادر نے دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کی سرپرستی کی ہے۔ وہ امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے وقت نمایاں شخصیت کے طور پر ابھرے۔

ملا عامر خان متقی ، قائم مقام وزیر خارجہ : ان کا تعلق اصل میں پکتیا سے ہے لیکن وہ خود کو ہلمند کا ظاہر کرتا ہے۔ پچھلے طالبان دور حکومت میں انہوں نے بطور ثقافت اور انفارمیشن کے وزیر کے طور پر خدمات سر انجام دیں تھیں۔

وہ بعد میں قطر گئے جہاں انہیں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم کا رکن بنایا گیا۔ وہ جارح اور نمائندگی کمیشن کے چیئرمین بھی ہیں۔

ملا یعقوب ، قائم مقام وزیر دفاع : ملا یعقوب ملا عمر کے صاحبزادے ہیں اور وہ پہلی دفعہ دوہزار پندرہ میں طالبان کے سربراہ کے امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔ وہ اس اجلاس سے باہر چلے گئے تھے جس میں ملا اختر منصور کو سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔ بعد میں وہ مفاہمت کے ذریعے واپس لائے گئے۔

ان کے والد کی وجہ سے انہیں کافی عزت اور تجربہ حاصل ہے اور وہ تیس سال کے ہوتے ہوئے کافی سارے حوالوں سے بااثر ہیں۔

سراج الدین حقانی : سراج الدین حقانی باثر طالبان حقانی نیٹ ورک کے سربراہ ہیں۔ وہ دوہزار اٹھارہ میں ان کے والد کی ہلاکت کے بعد نیٹ ورک کے سربراہ منتخب کیے گئے۔ اس گروپ کو امریکی اور اتحادی فورسز پر حملوں کیلئے الزام دیا جاتا رہا ہے۔

زبیح اللہ مجاہد ، قائم مقام ڈپٹی انفارمیشن وزیر : طالبان کے کافی زیادہ عرصہ تک ترجمان رہنے والے زبیح اللہ مجاہد کو ایک دہائی سے زیادہ ہوا کہ وہ ترجمان کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

وہ اپنے ٹویٹر سے طالبان کی جانب سے حملوں کی تفصیلات فراہم کرتے رہے۔ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس کی ، تب تک کسی نے ان کی تصویر نہیں دیکھی تھی۔

Source : Khaleej times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button