متحدہ عرب امارات

کیا میں نوکری سے استعفیٰ دینے کے بعد نوٹس پیریڈ کے دوران اپنی باقی ماندہ چھٹیاں لے سکتا ہوں؟

خلیج اردو
08 ستمبر 2021
دبئی : ایک گلف نیوز کے قاری نے سوال پوچھا ہے کہ اگر ایک جگہ ملازمت سے استعفیٰ دینے کے بعد نوٹس پیریڈ کے دنوں میں ایک ملازم اپنے سالانہ چھٹیاں لینا چاہیں تو کیا اسے حق ہے؟ ذیل میں قاری اور گلف نیوز کا جواب موجود ہے جو ہمارے قارئین کیلئے بھی مفید ہوسکتا ہے۔

سوال : میں نے دبئی میں ایک کمپنی سے ملازمت سے متعلق استعفیٰ دے دیا ہے۔ تاہم میرے پاس سالانہ چھٹیاں ہیں جنہیں میں نے استعمال نہیں کیا۔ کیا ان میں سے کچھ چھٹیاں میں لے سکتا ہوں اور اسے میرے نوٹس پیریڈ میں شمار کیا جا سکتا ہے؟ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ نوٹس پیریڈ کو ان میں شمار کیا جائے؟ اگر نہیں تو میرا خیال ہے کہ مجھے ان چھٹیوں کے بدلے تنخواہ ملنی چاہیئے۔ کیا میں درست سمجھتا ہوں؟

جواب : روزگار کے تمام معاہدوں کے حوالے سے یہ مشترک ہے کہ معاہدے میں بیان کردہ نوٹس پیریڈ کی مدت پوری کرنا لازمی ہے کیونکہ اس پر آجر اور ملازم کے درمیان اتفاق ہو چکا ہوتا ہے۔ جب کوئی ملازم مستعفی ہو جاتا ہے تو وہ نوٹس دینے یا نوٹس نہ دینے کی صورت میں معاوضے کی رقم ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔

جب تک کسی ملازم کے پاس آجر کی طرف سے نوٹس کی مدت معاف کرنے کا تحریری بیان نہ ہو ۔ یہ لازم ہے کہ تیس دنوں کا نوٹس پیریڈ پیشگی دینا ہوگا۔ متحدہ عرب امارات کے ملازم سے متعلق قانون کے آرٹیکل 117 کے مطابق کم از کم نوٹس کی مدت 30 دن مقرر ہے۔

نوٹس کی مدت اس دن سے شروع ہوتی ہے جس دن استعفیٰ پیش کیا جاتا ہے یا ای میل کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس میں آجر کی رضامندی کی ضرورت نہیں ہے۔ ای میل کے ذریعے استعفیٰ بھی قانون کے مطابق قابل قبول ہے جب تک ای میل کی ڈیلوری ثابت ہو سکے۔

جہاں تک قاری کے سوال کا تعلق ہے تو ایسا ممکن ہے کہ آجر اپنی طرف سے ملازم کو چھٹی دے دیں۔ جہاں تک ان چھٹیوں کے بدلے معاوضے کا تعلق ہے تو گریچویٹی کا ایک قرار دیا گیا طریقہ ہے۔

گریچویٹی متحدہ عرب امارات میں ملازمت کے قانون میں بالکل واضح ہے۔ گریچیوٹی کا حساب آخری تنخواہ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے جس کا ملازم حقدار ہوتا ہے۔

یہ بنیادی تنخواہ کے حساب سے ہوتا ہے جس میں رہائش ، نقل و حمل ، افادیت اور فرنیچر جیسے الاؤنس شامل نہیں ہوں گے۔ واضح رہے اگر ملازم کے آجر کے پاس کوئی رقم واجب الادا ہے تو آجر ملازم کی گریچیوٹی سے رقم کاٹ سکتا ہے۔

Source : Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button