
خلیج اردو 13 نومبر 2021
دبئی:ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے سیمی فائنل سے قبل دو دن اسپتال کی آئی سی یو میں رہنے والے محمد رضوان کی تیزی سے صحتیابی نے علاج کرنے والے بھارتی ڈاکٹر کو بھی حیران کردیا۔
بھارتی ڈاکٹر کے مطابق پاکستانی وکٹ کیپر بلے باز آئی سی یو میں با بار یہی کہتے رہے کہ مجھے کھیلنا ہے،ٹیم کے ساتھ رہنا ہے۔
ڈاکٹر ساحر سینالعابدین نے کہا کہ "محمد رضوان کی شدید خواہش تھی کہ وہ اس اہم ناک آؤٹ میچ میں اپنی قوم کے لئے کھیلے۔ وہ کھیلنے کیلئے پراعتماد تھے۔ مجھے محمد رضوان کی اتنی تیزی سے صحتیابی پر بہت حیرانگی ہے”. انہوں نے کہا کہ محمد رضوان کو جب اسپتال لایا گیا تو ان کو شدید درد تھا لہذا ہم نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا جس کے بعد معلوم ہوا کہ رضوان کے پیٹ میں غذائی نالی کے اندر دردناک سکڑاو ہے۔
میڈیکل ٹیم نے 29 سالہ کھلاڑی کو آئی سی یو منتقل کیا جہاں مسلسل ان کی نگرانی کی جاتی رہی۔
ڈاکٹر سینالعابدین کہتے ہیں کہ ” محمد رضوان کو شدید انفیکشن تھا۔سیمی فائنل سے قبل صحت یابی اور فٹنس حاصل کرنا غیر حقیقی لگتا تھا.ایسی حالت میں کسی کو بھی صحت یاب ہونے میں عام طور پر پانچ سے سات دن لگتے ہیں۔تاہم محمد رضوان نے بہترین پراعتمادی اور زبردست قوت ارادی کا مظاہرہ کیا۔”
ڈاکٹروں کی ٹیم نے مکمل جانچ کے بعد محمد رضوان کو بدھ کی دوپہر اسپتال سے ڈسچارج کیا۔
محمد رضوان نے بہترین دیکھ بھال پر میڈیکل ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور ڈاکٹر سینالعابدین کو اپنی دستخط شدہ جرسی بھی تحفے میں دی۔
محمد رضوان نے آسٹریلیا کیخلاف سیمی فائنل میں 67 رنز کی شاندار ننگز کھیلی۔، انکی ٹیم میچ تو نہ جیت سکی لیکن وکٹ کیپر بلے باز نے اپنی جذبے سےلوگوں کے دل جیت لئے۔
Source: KhaleejTimes







