متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات کا نیا لیبر قانون:سرکاری اور پرائیویٹ ملازمین کیلئے کام کرنے کے تین ماڈلز

خلیج اردو 13 دسمبر 2021

ابوظہبی:متحدہ عرب امارات میں شہری اور رہائیشی دو فروری سےسرکاری اور نجی اداروں میں پارٹ ٹائم یا عارضی ملازمت اختیار کرسکتے ہیں۔

وزارت انسانی حقوق نے آج ملک بھر میں ملازمتوں کے نظام کو یکجا کرنے کیلئے نئے قانون کا اعلان کیا ہے۔قانون میں نئی دفعات کل وقتی اسکیموں سے کام کے اختیارات کو بڑھاتی ہے۔ملازمین کوسرکاری اور نجی اداروں میں ملازمتوں کیلئے درخواست دیتے وقت عارضی اور جزوقتی معاہدے حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

پچھلے مہینے کے شروع میں وزارت انسانی حقوق نے لیبر قانون کے تحت نجی شعبے کے لئے کام کے ماڈلز متعارف کرائے تھے۔
ملازمین ایک سے زائد نوکریاں کرسکتے ہیں لیکن اس کے لیے لازم ہوگا کے قانون میں بیان کردہ کام کرنے کے گھنٹوں کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔قانون کے مطابق ملازمین ایک ہفتے میں 48 گھنٹے جبکہ تین ہفتوں میں 144 گھنٹے کام کر سکتے ہیں۔

اسکیم ملازمین کو ایک سے زیادہ اجر کے لئے مخصوص گھنٹوں یادنوں کے لئے یا تو سائٹ یادور سے کام کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
دوسرے ماڈل کے مطابق ملازمین کسی کمپنی کے ساتھ ایک پروجیکٹ کے لیے بھی معاہدہ کر سکتے ہیں۔

تیسرا ماڈل ملازمین کو ملازمت کے حالات اور ضروریات کے مطابق مختلف دن اور اوقات میں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ملازمین اپنے کام کے اوقات کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
Source:Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button