متحدہ عرب امارات

عالمی سطح پر علوم کا انڈیکس ، متحدہ عرب امارات نے علاقائی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کر لی

خلیج اردو 14 دسمبر 2021
دبئی : گلوبل نالج انڈیکس جی کے آئی میں متحدہ عرب امارات گیارہویں اور عالمی سطح پر پانچویں نمبر پر آیا ہے۔یہ گلوبل نالج انڈیکس کا پانچواں ایڈیشن ہے۔

دبئی کلچر اینڈ آرٹس اتھارٹی کی چیئرپرسن شیخہ لطیفہ بنت محمد بن راشد المکتوم کی سرپرستی میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی اور محمد بن راشد المکتوم نالج فاؤنڈیشن ، گلوبل نالج انڈیکس پیر کو جاری کیا گیا۔

اس سال کے جی کے آئی ایڈیشن میں 155 متغیرات شامل ہیں جن کا انتخاب 40 سے زیادہ بین الاقوامی سورسز اور ڈیٹا بیسز سے کیا گیا ہے۔

2021 کے عالمی نالج انڈیکس کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ سوئٹزرلینڈ لگاتار پانچویں سال عالمی سطح پر پہلے نمبر پر جبکہ سویڈن، امریکا، فن لینڈ اور ہالینڈ کا نمبر موجود ہیں۔ سوئٹزرلینڈ نے
اس سال مسلسل پانچویں مرتبہ اپنی ٹاپ رینکنگ برقرار رکھی ہے۔

جمال بن حویریب، سی ای او ایم بی آر ایف نے کہا کہ دنیا مکمل طور پر کرونا وائرس کی گرفت سے باہر نہیں ہے لیکن وہ علم کی انتھک جستجو ہے جس کی وجہ سے ہمیں وائرس کے خلاف ویکسین تیار کرنے کے ساتھ ساتھ علاج اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنی پڑی ، سے ظاہر ہے کہ علم پر یہ مسلسل توجہ اور اس کی کامیابی نے ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں احتیاط سے معمول پر لانے کی طرف راغب کیا ہے اور جس چیز نے آج اس آمنے سامنے ملاقات کو قابل بنایا ہے۔

پچھلے سال کے 138 کے مقابلے میں اس سال 154 پارٹیفیپیشن کا لیول تھا۔ دیگر ممالک میں عالمی رہنما کی فہرست میں 100 ویں پوزیشن تک قطر 38 ویں نمبر پر، سعودی عرب 40، کویت (48)، عمان (52)، مصر (53)، بحرین (55)، تیونس (83) ،لبنان (92)۔ عالمی سطح پر مراکش 101 نمبر پر ہے، اس کے بعد اردن (103)، الجزائر (111)، عراق (137)، سوڈان (145)، موریطانیہ (147) اور یمن (150) ویں نمبر پر ہے۔

اقوام متحدہ کے دینا آصاف کے مطابق جب دنیا ان چیلنجنگ کراس روڈ پر تھی تو جی کے آئی کے عالمی پرٹیسیپیشن میں اضافہ ہوا ہے۔ جی کے آئی سے عالمی سطح پر علوم اور خوشحالی میں اضافہ کرے گا۔

علاقائی حب مینیجر خالد عبدالشفیع علاقائی بیورو برائے عرب ریاستوں نے کہا کہ علم، اختراع اور تعلیم کو آگے بڑھانے والے کچھ اہم شاخوں کے اشاریہ میں عرب ممالک اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور مضبوطی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔

لانچنگ تقریب میں وزیر تعلیم حسین الحمادی کی شرکت کے ساتھ علم کے دور میں پالیسی سازی پر نظر ثانی پر ایک وزارتی پینل ، ڈاکٹر طارق شوقی، وزیر تعلیم، مصر؛ احمد ہنندی، ڈیجیٹل اکانومی اور انٹرپرینیورشپ کے وزیر، اردن؛ ڈاکٹر فادیہ کیوان، ڈائریکٹر جنرل، عرب ویمن آرگنائزیشن؛ اور ڈاکٹر ہانی ٹورکی، مینیجر، نالج پروجیکٹ شامل تھے۔

جی کے آئی 2021 میں اوسط عالمی کارکردگی کی شرح 48.4 فیصد رہی جبکہ انڈیکس کی سات شاخوں کیلئے بہترین کارکردگی پری یونیورسٹی ایجوکیشن میں 60.8 فیصد رہی، ماحول کو فعال بنانے کے (55.3)، معیشت (52.9) تکنیکی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت (51.2)، اعلیٰ تعلیم (46.1)، آئی سی ٹی (43.3) اور تحقیق و ترقی اور اختراع (31.4) فیصد رہا ۔

جی کے آئی 2017 کے بعد ہر سال بنائی جاتی ہے۔ انڈیکس میں 155 ویری ایبل ہیں جن میں چالیس ویری ایبل شامل ہیں۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button