خلیج اردو 15 دسمبر 2021
ابوظبہی : جدید ابوظبہی شہر کی منظرکشی کرنے والے نقشہ ساز جنہوں نے شیخ زید کی ہدایت پر اتحاد کے ابتدائی دنوں میں شہر کی منصوبہ بندی کی تھی ، 98 سال کی عمر میں وفات پاگئے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالرحمن ماخولوف نے دارلحکومت کے گریڈ سسٹم کی پلاننگ کی تھی جب وہ ملک کے بانی قصر البحار کے ساتھ سی پیلس میں بیٹھے تھے۔
اس کاوش کا مقصد ایک جدید شہر کی بنیاد رکھنا تھا جو مانہاتن سٹائل گریڈ کی بنیاد رکھنا تھا۔
منگل کے روز ماخولوف کے خاندان نے تصدیق کی ہے کہ وہ وفات پاچکے ہیں۔ دی نیشنل اس کے اسٹوڈیو آفس کی سیر کرکے اس کے ڈیزائن کو ڈاکومنٹ کر گیا ہے۔
قاہرہ یونیورسٹی سے آرکیٹیکچر کی ڈگری اور جرمنی سے ڈاکٹریٹ کرنے والے مصری ڈاکٹر ماخلوف اکتوبر 1968 میں پہلی بار ابوظہبی آئے۔
وہ سعودی عرب میں مختلف پراجیکٹس مکمل کرنے کے بعد شیخ زاید کیلئے کام کرنے آیا اور یو این ٹیکنیکل آفس کے ایک اہلکار کی طرف سے کیبل اور کام کی آفر کا جواب دیا جو امارات کی حمایت کر رہا تھا۔
اس کو شہر سے پیار ہو گیا اور پھر اس نے شہر کبھی نہیں چھوڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ سعودی عرب کے شہروں جیسے مکہ، مدینہ اور جدہ پر کام کر چکا ہے۔ اس لیے وہ خلیج سے واقف تھ۔میرے والد شیخ حسنین محمد مخلوف کا نام بھی اسلامی دنیا میں مشہور تھا،۔
دی نیشنل سے اپنے انٹرویو میں ماخلوف کا کہنا تھا کہ جب وہ پہنچا تو شیخ زید جنیوا میں تھے۔ ’’جب وہ آئے میں نے علاقے کا سروے کر لیا تھا اور اس کے خاکے بنا لیے تھے کہ شہر کو کیسے ترقی دینی چاہیے۔ میں ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوا جب میں نے سنا کہ وہ آ رہا ہے اور میں شاید واحد عرب آدمی تھا جو وہاں ٹیلر سوٹ میں کھڑا تھا۔ چنانچہ جب شیخ زید نے مجھے دیکھا اور مجھ سے ہاتھ ملایا اور مجھے سلام کیا تو انہوں نے اپنے ایک مشیر سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہے؟‘‘
ڈاکٹر ماخلوف نے کہا کہ شیخ زید کو بتایا گیا تھا کہ وہ شہر کی منصوبہ بندی کرنے والے ماہر پلانر ہیں جس کا اقوام متحدہ نے ذکر کیا ہے۔میں ہمیشہ ایک خوبصورت سوٹ میں ملبوس ہوتا ہوں. بغیر ٹائی کے عوام میں نظر آنا کبھی بھی باوقار نہیں ہے۔
ڈاکٹر ماخلوف جاپان سے تعلق رکھنے والے کاتسوہیکو تاکاہاشی کی جگہ لینے آئے تھے جو شیخ زید کے پہلے شہر کے منصوبہ ساز تھے اور جن کے منصوبے کی ڈاکٹر ماخلوف نے حمایت کی تھی۔
شیخ زید نے مجھ سے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ اب میں کہاں ہوں اور مجھے کہا جانا ہے۔ ہم ابوظبہی کیلئے دارلحکومت بنانا چاہتے ہیں اور ہم یہ سب اس رفتار سے کرنا چاہتے ہیں جتنا ممکن ہو۔
Source : The National







