متحدہ عرب امارات میں منشیات کے استعمال کے باوجود ایک غیرملکی ملک بدری سے بچ گیا ‘ دبئی کی عدالت نے 2 جنوری 2022 سے نافذ العمل ہونے والے منشیات کے نئے قانون کی بنیاد پر ذاتی منشیات کے استعمال اور قبضے کے جرم میں سزا یافتہ ازبک شخص کی ملک بدری کو منسوخ کر دیا۔ خلیج ٹائمز کے مطابق 40 سالہ اس شخص کو 22 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا، جب دبئی پولیس کے افسران کو اس کے بارے میں اطلاع ملنے پر اس کی گاڑی میں ایک نشہ آور چیز ملی ، اس شخص کے پیشاب کے ٹیسٹ سے اس کے منشیات کے استعمال کی تصدیق ہوئی، جس کا اس نے دبئی کی عدالت میں اعتراف بھی کیا ، جس کے بعد عدالت نے 18 نومبر کو اس شخص کو منشیات کے استعمال اور قبضے کا مجرم قرار دیتے ہوئے ملک بدری اور 5,000 درہم جرمانے کا حکم دیا۔
تاہم اس شخص کے اماراتی وکیل محمد الریدھا نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی ، نئے انسداد منشیات قانون کے آرٹیکل 75 کا سہارا لیا جو منشیات کے استعمال یا ذاتی استعمال کے لیے رکھنے کے جرم میں سزا یافتہ غیر ملکیوں کی سابقہ لازمی ملک بدری کو منسوخ کرتا ہے ، انہوں نے وفاقی تعزیرات کے آرٹیکل 13/1 کا بھی حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ اگر جرم کے بعد اور حتمی فیصلہ جاری ہونے سے پہلے ملزم کے لیے زیادہ موزوں قانون نافذ کیا جائے تو زیادہ موزوں قانون کا اطلاق خصوصی طور پر کیا جانا چاہیے۔
اس شخص کے دفاع میں وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم 20 سال سے ملک میں رہ رہا ہے جس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے چوں کہ وہ اپنے خاندان کا واحد فراہم کنندہ ہے ، اس لیے اس کی ملک سے جلاوطنی بہت نقصان کا باعث بنے گی ، جب کہ اس نے عدالتی کارروائی کے دوران اپنے اعترافی بیان میں اپنی غلطی پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔ 7 دسمبر کو دبئی کورٹ آف اپیل نے مجرم کے خلاف ملک بدری کا حکم منسوخ کر دیا لیکن 5,000 درہم جرمانہ برقرار رکھا ، اپنے فیصلے میں اپیل کورٹ نے کہا کہ عدالت انسداد منشیات قانون کے آرٹیکل 75 کی بنیاد پر مجرم کے خلاف ملک بدری کو منسوخ کرتی ہے جو ملک بدری کو اختیاری بناتی ہے۔
یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ منشیات اور سائیکو ٹراپک مادوں سے نمٹنے کے لیے 2021 کا وفاقی حکم نامہ قانون نمبر 30 متحدہ عرب امارات کی سب سے بڑی قانون سازی اصلاحات کے درمیان جاری کیا گیا تھا جس کا اعلان گزشتہ ماہ کیا گیا ، یہ قانون 2 جنوری 2022 سے نافذ العمل ہونے والا ہے ، جس میں اہم تبدیلیاں لائی جائیں گی جن میں پہلی بار منشیات استعمال کرنے والوں کی بحالی اور غیر ملکی منشیات کے مجرموں کی اختیاری ملک بدری شامل ہے۔







