متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں کرونا پی سی آر ٹیسٹ کی قیمت سے متعلق کیا اپڈیٹس ہیں؟

خلیج اردو

دبئی۔ ابوظبہی محکمہ صحت نے ملک میں کرونا پی سی آر کرانے سے متعلق قیمتوں کو اپڈیٹ کردیا ہے۔ دارلحکومت میں کرائے جانے والے ٹیسٹوں کی قیمتوں میں تبدیلی کی گئی ہے۔

 

ایک کرونا پی سی آر ٹیسٹ کرانے کیلئے اب رہائشیوں کو 40 درہم ادا کرنا ہونگی جو ابوظبہی کے تمام سہولت کے مراکز میں ہے۔ یہ فیصلہ آج یکم مارچ 2022 سے لاگو ہوگا۔

 اس سے قبل ایک پی سی آر ٹیسٹ دارلحکومت میں 50 درہم میں کرایا جاتا تھا جس میں کچھ رہائشیوں کو یہ سہولت مفت میں دی جاتی تھی۔

 قیمتوں میں یہ کمی نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر منجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے کرونا وائرس سے متعلق قواعد و ضوابط میں تبدیلی کے فیصلے کی روشنی میں کیا گیا ہے جہاں شہر میں رہائشیوں ، سرکاری ملازمین اور سیاحوں کے لیے کرونا پی سی آر سے متعلق ضوابط میں تبدیلی کی گئی ہے۔

 ان اپڈیٹس کے مطابق 28 فروری سے ابوظبہی میں داخلے کے لیے اب کسی قسم کے الہوسن اپلیکیشن کی ضرورت نہیں ہوگی۔

ابوظبہی میڈیا آفس نے یہ ٹویٹ بھی کیا تھا کہ اب سرحدوں پر ای ڈی ای اسکینرز کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔ ان اسکینرز کو بارڈر کے چیک پوائنٹس سے ہٹا دیا گیا ہے۔

تاہم یہ وضاحت کی گئی ہے کہ دارلحکومت میں عوامی مقامات، سرکاری دفاتر میں داخل ہونے کے لیے پی سی آر ٹیسٹ کی ضرورت ہوگی۔

نئے ضوابط کے مطابق اب بیرونی سرگرمیوں اور مواقع کے لیے ماسک پہننے کی ضرورت نہین اور یہ اختیاری ہوگیا ہے۔ تاہم وضاحت کی گئی ہے ہے بند جگہوں پر اب بھی ماسک پہننا لازم ہے۔

ملک میں حفاظت تدابیر کو کم کیا گیا ہے۔

26 فروری کو ہونے والے اعلان کے مطابق جو لوگ کرونا وائرس سے متائثر ہو جاتے ہیں، انہیں ہاتھ پر گھڑی باندنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں گھر میں قرنطینہ کے وقت ہاتھ پر بریسلٹ پہننے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

 

کرونا مریضوں سے جو لوگ رابطے میں رہ رہے ہوتے ہیں، وہ بھی مسلسل پانچ دنوں کے لیے پی سی آر ٹیسٹ کریں گے اور اب انہیں بھی قرنبطینہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔

مختلف سیاحتی اور دیگر حوالوں سے کاروبار اور جڑے خدمات کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور اب یہ 90 فیصد صلاحیت پر کام کررہے ہیں۔  

اب بھی الہوسن اپلکیکیشن پر بند جگہوں میں ہونے والے تقریب کے لیے گرین پاس قابل عمل ہے اور فعال ہے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنا لازمی ہوگا۔

نجی محفلوں میں داخلے کے لیے صلاحیت میں اضافہ کیا گیا ہے۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button